خاران ( نامہ نگار )بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ
گذشتہ روز 15 جولائی کو سرمچاروں نے خاران شہر میں نوروز آباد روڈ کے قریب فائرنگ کرکےکاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ضلعی انچارج عید محمد عرف عیدو کو فائرنگ کرکےھلاک کردیاہے ۔ ترجمان نے کہاہے
مزکورہ سی ٹی ڈی کا کارندہ پہلے کئیں سال خاران پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بطور ایس ایچ او کام کر چکا ہے۔ جبکہ درپردہ وہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ایک اہم مُہرہ تھا، اور شروع دن سے اپنے عہدہ و اختیارات کو خفیہ اداروں کیلئے استعمال کررہا تھا۔ خفیہ اداروں کی ایماء پر بلوچ سرمچاروں کے نقل و حمل پر نظر رکھ کر آئے روز ان کیلئے ناکہ بندی لگانے کے علاوہ علاقے میں بلوچ نوجوانوں کو من گھڑت الزامات و دیگر بنیادوں پر ماورائے عدالت خفیہ اداروں کے حوالے کرتا آرہاتھا
آزاد بلوچ نے کہاہے کہ پولیس، لیویز و سی ٹی ڈی سمیت دیگر عسکری اداروں کے اندر موجود بلوچ ملازمین و اہلکاروں کے حوالے سے تنظیمی پالیسی روز اول سے واضح کی جاچکی ہے کہ جو کوئی بھی اہلکار یا آفیسر بلوچ قومی تحریک کے خلاف پاکستانی فوج یا خفیہ اداروں کا آلہ کار بنے گا ، وہ عبرتناک انجام پائے گا۔
انھوں نے کہاہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس پالیسی میں ترمیم لائی گئی جس کے تحت ماضی قریب میں متعدد لوکل مخبروں سے لیکر پولیس و لیویز میں موجود پاکستانی ایجنسیوں کے آلہ کاروں اور ان کے خاندان سے ذاتی طور پر رابطے کرکے انہیں قبلہ درست کرنے کا وقت اور موقع فراہم کیا گیا۔ پولیس، لیویز سمیت دوسرے خاندانوں کی ضمانت اور مقامی آلہ کاروں کی معافی ناموں کو ریکارڈ میں رکھتے ہوئے تنظیم نے متعدد آلہ کاروں کو بلوچ سمجھ کر اس شرط پر معافی دی ہے کہ وہ آئندہ بلوچ دشمنی سے گریز کریں گے۔
ترجمان مطابق
اس دوران ہم نے سی ٹی ڈی آفیسر عید محمد کو بھی پیغامات بھیجے، لیکن وہ باز نہ آئے اور تواتر کے ساتھ بلوچ کاز کے خلاف کام کرتے رہے اور ماضی قریب میں مزکورہ شخص نے سوچے سمجھے پلان کے تحت اپنا تبادلہ پولیس سے سی ٹی ڈی میں کروایا ۔
آپ بھی جانتے ہیں سی ٹی ڈی بذاتِ خود ایک بلوچ نسل کُش ادارہ ہے ،جسے دشمن ریاست پاکستان بلوچ قومی تحریک کے خلاف فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے استعمال کررہی ہے۔
ترجمان نے کہاہے کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور لیویز میں موجود تمام بلوچ اہلکاروں اور ملازمین کیلئے ایک مرتبہ پھر واضح کرتے ہیں کہ خود کو نوکری اور تنخواہ تک محدود رکھتے ہوئے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری سے گریز کریں، اور جو اہلکار اس وقت خفیہ اداروں کیلئے کام کررہے ہیں انہیں سختی کے ساتھ تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ قوم و تنظیم سے معافی مانگ کر اپنا ہاتھ بلوچ نسل کُشی سے نکال لیں اگر نہیں تو ان کا بھی انجام سابق ایس ایچ او پولیس عید محمد اور لیویز اہلکار عبدالرحمن لالو کی طرح ہوگا۔
ترجمان کا کہناہے کہ اس وقت خاران سٹی پولیس تھانے میں موجود عیسٰی زئی برادران کے خلاف تنظیم کے پاس باقاعدہ ثبوت موجود ہیں ۔ عیسٰی زئی برادران سابق پولیس ایس ایچ او عید محمد کے ساتھ مختلف بلوچ تحریک دشمن جرائم میں شریک رہے ہیں ، مزکورہ افراد خفیہ اداروں کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں ،جوکہ پولیس وردی کے علاوہ باہر سول کپڑوں میں بھی کام کررہے ہیں۔
بلوچ لبرییشن آرمی قوم کو گواہ رکھتے ہوئے ان افراد کو مہلت دیتی ہے کہ جلد اپنی گناہوں کی معافی مانگیں اور اپنی صفائی پیش کریں ، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔
