*
راسک: مغربی بلوچستان کے شھرستان سرباز کے گاؤں ھنگ میں پیرکور تورجان کے مقام پر دو لاشوں کے ساتھ ملنے والے زخمی شخص کی پہچان ’میرخان محمد شاھوانی ولد میر جمعہ خان شاھوانی‘ کے نام سے ہوگئی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے ریڈیو تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے غلام قادر ولد عبداللہ سکنہ کلات اور اسد ولد ناصر سکنہ مند جبری لاپتہ افراد تھے جبکہ زندہ بچ جانے والے جبری لاپتہ افراد خان محمد شاھوانی کی جبری گمشدگی کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس رپورٹ کیا گیا تھا اور ان کے لواحقین جبری لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے۔
زخمی خان محمد اور مقتولوں کی لاشوں کو مغربی بلوچستان کے مقامی افراد نے اٹھانے کے بعد سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا جنھوں نے لاشیں تحویل میں لینے کے بعد زخمی خان محمد کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے یہ اطلاع تھی جبری لاپتہ افراد غلام قادر ولد عبداللہ زخمی ہیں لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ غلام قادر بھی شہید ہوچکے ہیں اور اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے خان محمد شاھوانی ہیں۔
ان کے بھائی بشیراحمد نے بھی ذرائع سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ ان کے بھائی زخمی ہیں اور مغربی بلوچستان میں زیر علاج ہیں۔
خان محمد کی سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ ان کے جبڑے پر گولیاں لگی ہیں لیکن وہ اپنے ہوش و حواس میں ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں تاہم وہ صاف زبان میں بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک پرچی پر لکھ کر بتایا کہ وہ تمپ میں زیر حراست تھے۔