پسنی ( نامہ نگار) پسنی سے ملحقہ ساحلی علاقے چربندن میں ایک کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا۔ اس سے قبل بھی چربندن میں کچھوؤں کی ہلاکت کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑی تعداد میں کچھوؤں کے خول ملے ہیں، تاہم اب تک ان کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات نہیں کی گئیں۔
اس حوالے سے گوادر سے تعلق رکھنے والے ماہرِ آبی حیات ظریف بلوچ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گوادر کے ساحلی علاقوں میں 50 سے زائد کچھوے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق، کچھوؤں کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات میں غیر پائیدار ماہی گیری، آبی آلودگی اور انسانی مداخلت شامل ہیں۔ تاہم، حالیہ مہینوں کے دوران بڑی تعداد میں کچھوؤں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آنے کے بعد ضروری ہے کہ ان کی وجوہات جاننے کے لیے سائنسی بنیادوں پر جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ اس اہم سمندری حیات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
