پسنی میں مقتول اسکول ٹیچر کے قتل کیخلاف اہلخانہ کا احتجاج، انصاف کا مطالبہ

 


گوادر(نامہ نگار) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ پسنی میں مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے اہلخانہ نے  انکی اغوا اور ماورائے عدالت قتل کیخلاف پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد اور فورسز کی تحویل میں موجود ملزمان کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اہلخانہ نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پسنی زیرو پوائنٹ پر مکران کوسٹل ہائی وے بند کردی جائے گی۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور مقتول پرویز مزار کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

اہلخانہ کے مطابق اسکول ٹیچر پرویز مزار کو مبینہ طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ایک نجی ٹارچر سیل میں رکھا گیا، جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو پناہ دینے کے بجائے پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں اور فورسز کو ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو مبینہ طور پر اداروں اور فورسز کا نام استعمال کرکے عام شہریوں کو اغوا کرتے، تشدد کا نشانہ بناتے اور بعد ازاں قتل کرکے لاوارث مقامات پر پھینک دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے عوام میں اداروں کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے، جس کی روک تھام ضروری ہے۔ اس موقع پر مقتول اسکول ٹیچر کے بچوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے والد کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مقتول کے اہلخانہ نے واضح کیا کہ اگر فورسز کی تحویل میں موجود ملزمان کو پولیس کے حوالے نہ کیا گیا تو وہ پسنی زیرو پوائنٹ پر مکران کوسٹل ہائی وے بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پرویز مزار کے قتل میں ملوث تمام افراد کے خلاف شفاف قانونی کارروائی کی جائے اور اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post