کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے سوراب واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ کیا بچوں کو قتل کرنے سے کبھی امن قائم ہو سکتا ہے؟ سردار اختر جان مینگل کا سوراب گدر واقعے پر سوال کرتے ہوئے سوراب گدر واقعہ میں شہید اور زخمی بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے واقعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
سردار اختر جان مینگل نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بچے شدت پسند نظر آتے ہیں؟ یہ معصوم بچے ہیں، آخر ان کا کیا قصور ہے؟ کیا بچوں کو قتل کرنے سے کبھی امن قائم ہو سکتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا، کیا یہ فلسطین ہے؟ کیا یہ کشمیر ہے؟ نہیں، یہ بلوچستان ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہاہے کہ گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سوراب پر بمباری کی، جس میں 27 شہری مارے گئے، جن میں سے اکثر بچے تھے۔ بچوں اور بزرگوں سمیت زخمی اور مردہ شہریوں کی تصاویر تباہ کن ہیں۔ دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی کارروائیوں اور منظم تشدد کا سامنا ہے۔ یہ بلوچوں کی نسل کشی ہے، اور یہ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے۔ 1948 میں پاکستان کے بلوچستان پر قبضے کے بعد سے بلوچ عوام کے مصائب کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا بجا طور پر غزہ کے بچوں کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ بلوچستان کے بچے اسی توجہ، یکجہتی اور تحفظ کے مستحق ہیں۔
دوسری جانب ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنی ایکس پوسٹ میں سوراب میں مبینہ فضائی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد کے جاں بحق ہونے کو افسوسناک اور شرم کا مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ اور پشتون کے خون کی کوئی قدر نہیں، ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
تینوں رہنماؤں نے واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
