معزز بلوچ قوم کے نام ایک اہم اپیل۔ماسٹر عبدالغنی متاثرہ خاندان مقتول زبیر غنی

 


مقتول زبیر غنی کے والد ماسٹر عبدالغنی بلوچ نے کہاہے
ہم آپ کی توجہ نہایت ایک اہم، حساس اور انسانی مسئلے کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ایک انسانی جان کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے دکھ، درد، کرب، عزت نفس، مستقبل اور بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے
کسی بھی معاشرے میں انسانی جان کی حرمت سب سے مقدم ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص پر سنگین الزامات عائد ہوں تو ان الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، قابلِ تصدیق شواہد اور منصفانہ طریقۂ کار کے ذریعے حقیقت سامنے لانا ضروری ہے۔ محض الزام، شک یا ایک بیان کی بنیاد پر کسی انسان کو مجرم قرار دینا اور پھر اس کے قتل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

بلوچ قوم کے سامنے یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ہم ریاستی اداروں سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی شخص کو محض شبہ، الزام یا ناکافی معلومات کی بنیاد پر اغوا، تشدد یا قتل نہ کیا جائے، تو یہی اصول ہر فریق اور ہر مسلح گروہ پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے
انصاف کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
بلوچ عسکریت پسند تنظیم کے ہاتھوں مقتول
زبیر غنی ولد عبدالغنی کا واقعہ

13 جولائی 2026 کو ناگ، زامران، حال شاہی تمپ کے رہائشی زبیر غنی ولد عبدالغنی کو شام تقریباً 3 بجے اپنے رہائش گاہ شاھی تمپ سے فون کے ذریعے بلایا جاتاہے۔ اس کے بعد ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہوگیا
15 جولائی 2026 کی رات ناصر آباد میں انہیں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کیا، جہاں شناخت کے بعد معلوم ہوا کہ مقتول زبیر غنی ہے۔
مقتول زبیر غنی کی لاش ملنے کے بعد ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل سے قبل زبیر غنی کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے صاف واضح طور پر عیاں ہے وہ ان تمام الزامات ماننے سے انکاری رہے اس معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ان کے ساتھ کیوں اسی قسم کی ناروا سلوک کیا گیا اور نامکمل تفتیش کی بنا پر انہیں اتنی جلدی قتل کرنے کی اصل محرکات کیا تھے۔
ابتدائی طور پر خاندان کو یہ خدشہ تھا کہ شاید کسی جرائم پیشہ گروہ یا چوروں نے انہیں لوٹنے کی غرض سے قتل کیا گیا ہو، کیونکہ ان کے پاس ایک گاڑی کے علاوہ قیمتی اشیا موجود تھیں، جن میں راڈو گھڑی، سونے کی انگوٹھی، آئی فون موبائل، ایک سادہ موبائل فون، پستول اور دیگر سامان شامل تھا۔
بعد ازاں بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے زبیر غنی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی اور ان پر متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
عائد کیے گئے الزامات اور خاندان کا مؤقف

تنظیم کی جانب سے زبیر غنی پر مختلف نوعیت کے سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن میں سماجی برائیوں، مبینہ غیر قانونی ناکہ بندیوں، سڑکیں بند کرنے، آزادی پسند تنظیموں کے افراد کی نقل و حرکت کی نشاندہی کرنے، نوجوان بلوچ لڑکیوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے، نجی ویڈیوز بنانے، خاندانوں سے جبری رقم وصول کرنے، فوجی کیمپوں تک لوگوں کو لے جانے، منشیات کے کاروبار، سرکاری و فوجی اہلکاروں سے روابط، مبینہ فوجی تربیت، ڈیزل ٹینکروں سے بھتہ وصول کرنے اور بعض جرائم پیشہ عناصر سے روابط جیسے الزامات شامل ہیں۔

زبیر غنی کی فیملی ان تمام الزامات کی بغیر ثبوت شواہد سختی سے تردید کرتی ہے۔

خاندان کا مؤقف ہے کہ ان الزامات کا زبیر غنی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کے قتل کے بعد جاری کیے گئے بیان میں ایسے الزامات عائد کیے گئے جن کے قابلِ تصدیق شواہد خاندان کے سامنے نہیں لائے گئے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی فرد یا تنظیم کے خلاف نفرت پھیلانا نہیں، بلکہ ایک مقتول کے خاندان کی جانب سے اپنے سوالات کے جوابات اور انصاف کا مطالبہ کرنا ہے۔

اگر زبیر غنی واقعی ان سنگین الزامات میں ملوث تھے تو ان الزامات کے قابلِ تصدیق شواہد قوم کے سامنے لائے جائیں۔

دو دن میں تفتیش کیسے مکمل ہوئی؟
یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ 13 جولائی کو زبیر غنی کے لاپتا ہونے اور 15 جولائی کو ان کے قتل کے درمیان ایسا کون سا مکمل اور حتمی تفتیشی عمل ہوا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف اتنے سنگین الزامات ثابت ہوگئے؟

اگر کسی شخص پر قتل، مخبری، بلیک میلنگ، بھتہ خوری، منشیات یا کسی اور سنگین جرم کا الزام ہو تو اس الزام کے لیے شواہد، واقعات کی تفصیلات، تاریخ، مقام اور دیگر قابلِ تصدیق معلومات کا ہونا ضروری ہے۔

محض ایک بیان جاری کرنا کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتا۔

ڈیزل ٹینکروں سے بھتہ وصول کرنے کا الزام

زبیر غنی پر ڈیزل ٹینکروں سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ہم اس حوالے سے واضح سوال کرتے ہیں
یہ رقم کس ٹینکر سے وصول کی گئی؟
کہاں کس مقام پہ وصول کی گئی؟
کس تاریخ کو وصول کی گئی؟
اس واقعے میں ان کے ساتھ دیگر کون لوگ اس دھندے میں شامل تھے؟
اس الزام کے حق میں کیا قابلِ تصدیق ثبوت تنظیم کے پاس موجود ہیں؟
ڈسٹرکٹ میں ٹینکروں سے متعلق مذکورہ کاروبار 2017 سے بند ہے۔ اگر اس کے باوجود حالیہ عرصے میں زبیر غنی پر ٹینکروں سے بھتہ وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے تو اس الزام کی مکمل تفصیلات اور شواہد قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔

نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کرنے کا الزام

یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے کہ زبیر غنی نوجوان بلوچ لڑکیوں کو بلیک میل کرتے، ان کی نجی ویڈیوز بناتے اور ان کے خاندانوں سے مبینہ طور پر جبری رقم وصول کرتے تھے۔
خاندان اس الزام کی بھی مکمل تردید کرتا ہے۔
اگر اس الزام کے حق میں حقیقی شواہد موجود ہیں تو ان کی نوعیت قوم کے سامنے واضح کی جائے۔ کیا کسی متاثرہ خاندان نے شکایت کی؟
کیا کسی واقعے کی تاریخ، مقام یا دیگر تفصیلات موجود ہیں؟ کیا کوئی ایسا قابلِ تصدیق ریکارڈ موجود ہے جس سے یہ الزام ثابت ہوتا ہو؟
ہم متاثرہ افراد کی شناخت یا نجی معلومات عام کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے، کیونکہ ان کی عزت اور رازداری بھی اہم ہے۔ تاہم، اگر ایسے واقعات واقعی ہوئے ہیں تو ان کے قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد ضرور واضح ہونی چاہیے۔

ناکہ بندی، روڈ بلاک اور مخبری کے الزامات

زبیر غنی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ غیر قانونی ناکہ بندی، سڑکوں کی بندش اور آزادی پسند تنظیموں سے وابستہ افراد کی نقل و حرکت کی نشاندہی میں ملوث تھے۔
خاندان کا سوال ہے کہ اگر یہ الزام درست ہے تو
کن واقعات میں زبیر غنی کا کردار ثابت ہوا؟
یہ واقعات کب اور کہاں پیش آئے؟
ان واقعات کے کیا شواہد موجود ہیں؟
ان کی مبینہ مخبری کے نتیجے میں کون سے افراد گرفتار یا قتل ہوئے ہیں؟
ان واقعات کو زبیر غنی سے جوڑنے کی بنیاد کیا ہے؟
اتنے سنگین الزام کے ساتھ کم از کم قابلِ تصدیق تفصیلات سامنے لانا ضروری ہیں۔

سرکاری اہلکاروں سے رابطوں کا الزام

زبیر غنی کے موبائل فون میں سرکاری اہلکاروں کے نمبرز یا ان سے رابطوں کو بھی ان کے خلاف بطور دلیل پیش کیا گیا۔
خاندان کا مؤقف ہے کہ کسی سرکاری اہلکار کا نمبر موبائل فون میں محفوظ ہونا یا اس سے رابطہ ہونا بذاتِ خود کسی شخص کے مخبر ہونے یا کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔
ضلع کیچ سمیت مختلف علاقوں میں تاجر، سیاسی کارکن، سماجی افراد اور عام شہری متعدد سرکاری و غیر سرکاری افراد سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس لیے صرف فون رابطے کی بنیاد پر کسی شخص کو مخبر یا مجرم قرار دینا مناسب نہیں، جب تک اس رابطے کے مقصد اور نوعیت کے بارے میں مزید ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔

بابو کے ہاں قیام

خاندان اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ زبیر غنی تقریباً پانچ سے چھ ماہ تک مند میں بابو کے ہاں رہے تھے۔زبیر غنی ذاتی اور خاندانی مسائل کے باعث وہاں گئے تھے اور بعد میں ان کے اہلِ خانہ انہیں واپس بلایا۔اس کے بعد زبیر غنی عام لوگوں کی طرح رہن سہن اختیار کی
لہٰذا کسی شخص کا کسی فرد کے ہاں کچھ عرصہ قیام کرنا، بذاتِ خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ وہ اس شخص کے جرائم یا سرگرمیوں میں شریک تھا۔
اگر اس قیام کو زبیر غنی کے خلاف الزام کی بنیاد بنایا گیا ہے تو اس کے مکمل حالات اور اس دوران ان کی مبینہ سرگرمیوں کے شواہد بھی سامنے لائے جانے چاہئیں۔

اسلحہ رکھنے کا معاملہ

زبیر غنی کے پاس ایک پستول موجود تھا۔ ، وہ ذاتی دشمنی اور اپنی حفاظت کے پیشِ نظر اسلحہ رکھتے تھے۔
کسی شخص کا ذاتی دفاع کے لیے اسلحہ رکھنا، بذاتِ خود، اسے کسی مسلح تنظیم کا دشمن، مخبر یا کسی جرم کا مرتکب ثابت نہیں کرتا۔ اگر اسلحے کے استعمال سے متعلق کوئی مخصوص واقعہ موجود ہے تو اس کے شواہد بھی سامنے لانا ضروری ہیں۔

قتل کے ساتھ سامان لے جانے کا سوال
زبیر غنی کے قتل کے بعد ان کی گاڑی، موبائل فون، گھڑی، سونے کی انگوٹھی، پستول اور دیگر اشیا بھی ان کے پاس موجود نہیں رہیں۔
اس معاملے کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ یہ اشیا کہاں گئیں اور کس کے قبضے میں ہیں۔
اگر قتل کسی مخصوص الزام کی بنیاد پر کیا گیا تھا تو پھر مقتول کی ذاتی اشیا ساتھ لے جانے کی وجہ بھی واضح کی جانی چاہیے۔

خاندان کا بنیادی مطالبہ

ہم یہ نہیں کہتے کہ اگر کوئی شخص کسی جرم کا مرتکب ہو تو اسے جواب دہ نہیں ہونا چاہیے۔
ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ جرم کا فیصلہ ثبوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، الزام کی بنیاد پر نہیں۔

اگر زبیر غنی کے خلاف مذکورہ الزامات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں مناسب طریقے سے سامنے لایا جائے۔ اگر ایسے شواہد موجود نہیں تو ایک مقتول شخص پر سنگین اور ناقابلِ تصدیق الزامات عائد کرکے اس کے قتل کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

ہمارے مطالبات
ہم بلوچ لبریشن فرنٹ اور متعلقہ تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہزبیر غنی پر عائد تمام سنگین الزامات کے قابلِ تصدیق شواہد سامنے لائے جائیں۔جن واقعات میں انہیں ملوث قرار دیا گیا ہے، ان کی تاریخ، مقام اور تمام بنیادی تفصیلات واضح کی جائیں۔ اگر ان کی مبینہ مخبری کے نتیجے میں کسی شخص کی گرفتاری، قتل یا کسی دوسرے نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے تو اس دعوے کی بنیاد اور شواہد سامنے لائے جائیں۔نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کرنے اور ان کی نجی ویڈیوز بنانے کے الزام کے حوالے سے قابلِ اعتماد شواہد پیش کیے جائیں، جبکہ مبینہ متاثرین کی شناخت اور نجی معلومات محفوظ رکھی جائیں۔ڈیزل ٹینکروں سے مبینہ بھتہ وصول کرنے کے الزام کی تاریخ، مقام، واقعات اور شواہد قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔
سرکاری اہلکاروں سے رابطوں کو مخبری یا کسی جرم سے جوڑنے کی بنیاد واضح کی جائے۔
بابو کے ہاں زبیر غنی کے قیام کے دوران مسلح تنظیموں کو نقصان پہنچانے کے بارے میں موجود شواہد سامنے لائے جائیں۔ زبیر غنی کی بیدردی سے قتل اس سے قبل مبینہ شدید تشدد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
مقتول کی گاڑی، موبائل فون، گھڑی، سونے کی انگوٹھی، پستول اور دیگر اشیا کے بارے میں مکمل وضاحت دی جائے۔. سب سے بڑھ کر، زبیر غنی کے خاندان کو حقیقت جاننے، سوالات کے جواب حاصل کرنے اور انصاف تک رسائی کا حق دیا جائے۔

بلوچ قوم کے نام ہمارا پیغام

ہم بلوچ قوم کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے لوگوں کے جبری اغوا، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور لاپتا کیے جانے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں ہر انسانی جان کے لیے اسی اصول پر قائم رہنا چاہیے۔

انصاف کسی گروہ، تنظیم، نظریے یا فریق کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔

ایک بلوچ کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی دوسرے انسان کی جان۔

ایک ماں کا بیٹا کھونا حقیقی درد ہے۔
ایک باپ کا جوان بیٹا کھونا حقیقی درد ہے۔
بہن بھائیوں کا اپنے پیارے کو کھونا حقیقی درد ہے۔
اور ایک مقتول شخص کی عزت اور اس کے خاندان کی عزت بھی اہم ہے۔

کسی بھی نظریے یا سیاسی مقصد سے بڑھ کر انسانی جان اور انصاف کی حرمت ہونی چاہیے۔

ہم زبیر غنی کے خاندان کی جانب سے بلوچ لبریشن فرنٹ سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر غنی پر عائد کیے گئے تمام الزامات کے مکمل، واضح اور قابلِ تصدیق شواہد قوم کے سامنے لائے جائیں۔

اگر شواہد موجود ہیں تو انہیں پیش کیا جائے تاکہ حقیقت واضح ہوسکے۔
اور اگر شواہد موجود نہیں تو ایک بلوچ نوجوان پر سنگین اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے اس کے قتل کو جواز فراہم کرنے اور اس کے خاندان کی عزت و وقار کو مجروح کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر غنی کے قتل کے تمام پہلوؤں، قتل سے قبل مبینہ تشدد، ان کی ذاتی اشیا کے غائب ہونے اور ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی حقیقت کو واضح کیا جائے۔

ہم انصاف چاہتے ہیں، انتقام نہیں۔
ہم ثبوت چاہتے ہیں، محض الزامات نہیں۔
ہم حقیقت چاہتے ہیں، خاموشی نہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post