کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پولیس تھانے، پاکستانی فوج کی چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی مواد کے ذریعے پولیس تھانے کو تباہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکا گزشتہ شب کیا گیا، جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہوکر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
دوسری جانب چاغی ہی علاقے یک مچ میں مسلح افراد کی جانب سے تین تجارتی گاڑیوں پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑیاں ناکارہ ہوگئیں، جبکہ حملہ آور ایک مال بردار گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔
خضدار کے علاقے وڈھ میں آر سی ڈی شاہراہ پر بھی پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں میں ایک بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی اور حملے کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع نے فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا ہے،
پاکستانی فوج نے خضدار کے علاقے وڈھ میں ہونے والے حملے میں ابتدائی ہلاکتوں اور زخمی اہلکاروں کی تصدیق کر دی ہے۔
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 141 ونگ کے سپاہی مزمل (سگنل)، لانس نائیک بلال اور سپاہی ناصر شامل ہیں، جبکہ زخمی اہلکاروں کا تعلق 141 ونگ اور 15 ایف ایف سے بتایا گیا ہے۔ زخمیوں کو کوراڑو 1122 منتقل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ہلاکتوں کی تعداد مزید زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
ادھر گزشتہ روز منگچر کے مرکزی بازار میں پاکستانی فورسز کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق حملہ دیر تک جاری رہا، جس دوران علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملے میں فورسز کو جانی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دریں اثنا گزشتہ رات جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں بھی پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو مسلح حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
