بیٹے اکرم کو مبینہ طور پر گھر سے اہلِ خانہ کے سامنے گاڑی سمیت اس جواز کے تحت لے جایا گیا ۔ والد کا بیان

 


‎پنجگور
( نامہ نگار) چیدگی کے قریب تمپ ریکو کے رہائشی وزیر احمد ولد قادر بخش نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ 2 جون 2026 کو ان کے بیٹے اکرم کو مبینہ طور پر گھر سے اہلِ خانہ کے سامنے گاڑی سمیت اس جواز کے تحت لے جایا گیا کہ انہیں پوچھ گچھ کے لیے لے جایا جا رہا ہے، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے۔

‎وزیر احمد کے مطابق، ان کی گمشدگی کے بعد اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی تو انہیں ان اغوا کرنے والے کے دو ساتھیوں کے بارے میں معلومات ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد نے ابتدا میں لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر کہا کہ اکرم وزیر کو ایک دو روز میں چھوڑ دیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی دوران اٹھائے گئے اکرم کے کپڑے اور گاڑی بھی ان افراد کے قریب سے دیکھی گئی، تاہم انہوں نے کہا کہ تین روز بعد اکرم کو چھوڑ دیں گے لیکن ان کی بعد انکی لاش برآمد ہوئی۔

‎وزیر احمد کا کہنا ہے کہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر بلوچ مزاحمتی تنظیم بی ایل اے کے نام سے ایک بیان سامنے آیا، جس میں اکرم کو مبینہ طور پر سرکاری حمایت یافتہ آلہ کار قرار دے کر کارروائی کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

‎انہوں نے کہا کہ اگر اکرم کے خلاف سرکاری آلہ کاری یا کسی اور الزام کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے۔ وزیر احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے علم کے مطابق اکرم بے گناہ تھا، نہ اس کی کسی سے تنظیم اور سرکاری معاملات میں کوئی عمل دخل اور نہ ہی وہ کسی سرکاری ادارے کا آلہ کار تھا۔

‎وزیر احمد نے مزید دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر تنظیم سے وضاحت طلب کرنے کے بعد انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر مختلف نمبروں سے فون کالز موصول ہوئیں، جن میں ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

‎انہوں نے کہا کہ اس دوران ان کے شہید بیٹے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں ان کے بیٹے سے بعض افراد کے ساتھ تعلق اور مبینہ سرکاری آلہ کاری سے متعلق اعترافی بیان منسوب کیا گیا۔ وزیر احمد کے مطابق، ویڈیو کے حالات اور اندازِ بیان سے انہیں محسوس ہوا کہ یہ بیان دباؤ یا جبر کے تحت ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

‎وزیر احمد نے کہا کہ "اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنا دیا ہے کہ ہمیں کسی کا گارڈ یا ہمراہ بننے کی ضرورت نہیں۔" انہوں نے تنظیم کی قیادت اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خاندان پر لگائے گئے الزامات اور مبینہ طور پر جاری ہراسانی کی وضاحت کریں۔

‎انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو عناصر انہیں فون کرکے مبینہ طور پر ہراساں، دھمکا اور خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، تنظیم کی قیادت ان کے بارے میں بھی وضاحت پیش کرے۔

‎وزیر احمد نے کہا کہ وہ بحیثیت بلوچ چاہتے ہیں کہ الزامات کی بنیاد، شواہد اور واقعے سے متعلق حقائق واضح کیے جائیں تاکہ ان کے خاندان کے خلاف جاری مبینہ پروپیگنڈے اور دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہوسکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post