بی این ایم وفد کی یورپی پارلیمنٹ اراکین سے ملاقات، پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کی منسوخی کا مطالبہ



 کوئٹہ ( نامہ نگار)

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا دورہ کیا، جہاں اس نے یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین سے ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کے دوران یورپی یونین کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس( جی ایس پی پلس) کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفد نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریوں، اجتماعی سزا اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی حقوق کی یہ سنگین خلاف ورزیاں ان بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں سے براہِ راست متصادم ہیں، جن پر عمل درآمد پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسکیم سے مستفید ہونے کی بنیادی شرط ہے۔وفد نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی جی ایس پی پلس سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا جامع، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ جائزہ لے اور بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت منسوخ کرے۔
دورے کے دوران وفد نے یورپی پارلیمنٹ کے اراکین برٹ یان روئسن، پاؤلو بورکیا، ماتے ٹونن اور اوزلیم دیمیرل سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ وفد نے جوبلی کمپین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر این بووالڈا اور کمیونیکیشنز ایسوسی ایٹ ہلدا فہمی سے بھی ملاقات کی۔ان ملاقاتوں میں وفد نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال پر مشتمل ایک تفصیلی دستاویز پیش کی، جس میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی کو حال ہی میں سنائی جانے والی عمر قید کی سزاؤں کا بھی ذکر کیا گیا۔ وفد نے یورپی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ جوابدہی کو یقینی بنانے اور جی ایس پی پلس فریم ورک کی بنیاد بننے والے انسانی حقوق کے اصولوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔وفد میں بی این ایم کے انسانی حقوق کے ادارے پانک (پانک) کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمال بلوچ، پارٹی کے میڈیا، آئی ٹی اور ثقافتی ادارے کے سرکردہ رکن باسط ظہیر بلوچ اور صفیہ بلوچ شامل تھے۔ بی این ایم کے وفد نے یورپی پارلیمنٹ کی باضابطہ دعوت پر یہ دورہ کیا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post