اسلام آباد ( نامہ نگار) بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل (بی ایس سی) اسلام آباد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو سابق عہدیداران سمیت چار بلوچ گریجویٹس کو کوئٹہ سے مبینہ طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ کونسل کے مطابق لاپتہ افراد میں خضدار سے تعلق رکھنے والے آصف بلوچ ولد محمد، پنجگور کے سلمان بلوچ ولد انور، جبکہ خضدار ہی کے دو دیگر گریجویٹس نبیل اور زبیر بلوچ شامل ہیں۔بیان کے مطابق آصف بلوچ نے ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور سے بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پشاور کے جنرل سیکریٹری اور بعد ازاں چیئرمین بھی رہ چکے تھے، جبکہ سلمان بلوچ بھی ایگریکلچر یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کے گریجویٹ ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کا کہنا ہے کہ چاروں افراد کو کوئٹہ کے ایمان سٹی، سریاب/سمنگلی روڈ کے علاقے سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ کونسل نے الزام عائد کیا کہ بلوچ طلبہ کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات کا مقصد تعلیمی ماحول میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنا ہے۔کونسل نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔