گوادر ( نامہ نگار ) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، ایک طرف سی پیک مرکز گوادر سے مزید 2 نوجوانوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا ہے تو دوسری جانب گذشتہ دو ہفتوں سے لاپتہ ایک اور بلوچ نوجوان کی بازیابی کی تصدیق ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک مرکز گوادر سے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، جس کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو گوادر شہر سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے نوجوانوں کی شناخت علی نواز ولد حسن اور زوہیب ولد رزاق کے ناموں سے ہوئی ہے، جو ضلع گوادر کی تحصیل جیونی کے علاقے پانوان کے رہائشی ہیں۔
بلوچ تنظیموں کے مطابق پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کی اس پالیسی نے بلوچستان میں ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب گذشتہ ماہ پنجگور سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے نوجوان عادل ولد عبد الرشید بازیاب ہوگیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق عادل عبد الرشید کو 26 جون کو پروم کے علاقے سے فوج نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا، جو تقریباً دو ہفتے نامعلوم حراست میں رہنے کے بعد گذشتہ روز 10 جولائی کو بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
