کراچی ( نامہ نگار) کراچی کے علاقے کیماڑی میں گٹر صاف کرنے والے اس سفید داڑھی والے بزرگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ویڈیو میں یہ بزرگ روانی سے انگریزی زبان میں اپنی داستانِ زندگی بیان کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے 1987 میں پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا تھا وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں ایک سرکاری نوکری کے لیے تقریباً 70 نشستیں تھیں، مگر نوکری حاصل کرنے کے لیے رشوت مانگی جاتی تھی ان کے بقول وہ اتنی بڑی رقم دینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اس لیے انہیں نوکری نہ مل سکی۔
وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے گئے، اور آج وہ کراچی میں گٹر کی صفائی کا کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے آخر کتنے قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لوگ ایسے ہوں گے جو مواقع کی کمی، سفارش، رشوت یا ناانصافی کی وجہ سے اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے؟
یہ بزرگ بھیک نہیں مانگ رہے، کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے، بلکہ اپنی عمر کے اس حصے میں بھی محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا رزق کما رہے ہیں گٹر صاف کرنا یقیناً ایک مشکل، کٹھن اور تکلیف دہ کام ہے، مگر حلال روزی کے لیے کی جانے والی ہر محنت قابلِ احترام ہے۔
اصل عزت عہدوں میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے، اصل عظمت کرسی میں نہیں، محنت میں ہوتی ہے، اور اصل کامیابی صرف بڑے عہدے کا نام نہیں بلکہ حلال روزی سے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے۔
اس پوسٹ کا مقصد اس بزرگ کی بات لوگوں تک پہنچانا ہے شاید کسی صاحبِ حیثیت، کسی ادارے، کسی کمپنی یا کسی مخیر انسان کی نظر اس پوسٹ پر پڑ جائے اور اس بزرگ کے لیے بہتر روزگار ذریعہ بن جائے۔
اس بزرگ نے زندگی میں محرومیاں اور مشکلات دیکھی ہیں تو انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرما، اور ہمارے معاشرے کو انصاف، دیانت داری اور انسانیت کی دولت نصیب فرما۔
