شال ( نامہ نگار )
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے 20 جون کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج جیل میں ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ جیل کے اندر یہ ہمارا پانچواں دھرنا ہے، تاہم یہ پہلا دھرنا ہے جو 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔
13 جون کو جب ہمیں پیشی کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہم نے فوری طور پر احتجاج کیا اور اپنے بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے ہم جیل کے احاطے میں اپنا پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس دھرنے نے ہماری مزاحمتی جدوجہد کی بے شمار یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، ریاستی تشدد ہو یا پابندیاں، ہم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام چہرے، جو جبری گمشدگیوں، قتل و جبر اور مسلسل ریاستی تشدد کے باوجود ثابت قدم رہے، آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ ہم نے اماں حوری، لمہ زرگل ، ادی مہر جان اور ان تمام ماؤں کو یاد کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
اسی طرح راجی مچی اور 22 مارچ کوئٹہ دھرنے کے وہ تمام مناظر بھی ہمارے سامنے آگئے، جب پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ یہ تمام یادیں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی مزاحمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہی یادداشتیں ہماری اصل وراثت ہیں، ایک ایسی وراثت جسے کوئی ریاست، کوئی جبر اور کوئی قید ہم سے چھین نہیں سکتی۔
ہمارے دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: اول، ہمارے مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی جائے؛ دوم، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔
ہمیں ابتدا میں 3MPO کے تحت حراست میں لیا گیا، اس کے بعد اٹھہتر دن تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔ 11 اکتوبر سے ہمارے جیل ٹرائل کا آغاز ہوا، اور اب 12 جون کو چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟
ہمارے مقدمات کے دوران عدالتی عمل کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے جنہوں نے ہمارے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ ایک پیشی کے دوران بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور جج پر زور دے رہے تھے کہ مقدمات کو تیزی سے چلایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ جلد از جلد فیصلے سنائے جا سکیں۔ اس موقع پر جج نے انہیں جواب دیا کہ مقدمات کا فیصلہ ان کے نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔
اس سے قبل انہی نوعیت کے متعدد مقدمات میں ہمیں ضمانتیں دی جا چکی تھیں، مگر 16 نومبر کو جج محمد علی مبین نے مختلف مقدمات میں ہماری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک ہی مقدمے میں میری ضمانت منظور کی گئی جبکہ اسی مقدمے میں بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح تمام کیسیز پر میریٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے ضمانت کے کیسیز کو بیلینس کیا گیا جس سے ہمیں قید بھی رکھا جاسکے اور عدالت کے غیر منصفانہ کاروائی پر پردہ بھی ڈالا جاہیں ۔دورانِ سماعت ہمیں بارہا کہا گیا کہ ’’جا کر اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ہمارا جواب ہمیشہ یہی تھا کہ آپ کے سامنے قانون موجود ہے، آپ قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔
گزشتہ آٹھ روز سے ہم جیل کے اندر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں اور بطور احتجاج فیس لیس عدالتوں میں پیش ہونے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہمارے لیے سرکاری وکلا مقرر کر دیے گئے ہیں، حالانکہ ہمیں بلوچستان کے بہترین وکلاء کی ٹیم دفاع کر رہی ہے اور ہم کسی سرکاری وکیل کی طلب نہیں کیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی۔ آج تک ہمیں اپنے وکلا، سید سلطان شاہ، نعیم کُکلاچی، بلال محسن، اقبال شاہ، مختیار احمد، اور اکبر شاہ، سے ملاقات تک نہیں ہوئی ، لیکن وہ عدالت میں ہمارے نمائندوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے قانونی حقِ دفاع کی نفی ہے بلکہ پورے عدالتی عمل پر ایک سنگین سوال بھی اٹھاتا ہے۔گوادر راجی مچی کے دوران بلوچ عوام پر جس بے رحمی سے تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مظاہرین کو شہید کیا گیا ، اس کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات کے ذریعے دھرنے کے خاتمے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت ہماری تحریک کے پُرامن اور سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج ہمارے خلاف مقدمات اس انداز میں چلائے جا رہے ہیں کہ صرف ایک ہفتے کے دوران گوادر کیس میں چار ایف سی اہلکاروں کے بیانات ہمارے اور ہمارے وکلا کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے، اور 22 جون کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
جس طرح مقدمے کے دوران قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کے بعد ہمیں اس فیصلے کے بارے میں کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں۔ مگر شاید یہی ہماری جدوجہد کی کامیابی بھی ہے۔ ہماری گرفتاریوں، ہماری طویل قید، اور ہماری تنظیم کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کے باوجود ریاستی ادارے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے اب عدالتی عمل کو بھی عسکری قوتوں کے غیر قانونی مقاصد کے تابع بنا دیا گیا تاکہ وہ نتائج حاصل کیے جا سکیں جو سیاسی میدان میں حاصل نہیں کیے جا سکے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند سیاسی کارکنوں کو قید کر دینے سے بلوچ قومی تحریک کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جیلوں کی دیواریں ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، اس کے دکھوں اور اس کی جدوجہد کو قید کر سکتی ہیں؟ اور اس طرزِ حکمرانی کے ذریعے بلوچستان کے لوگوں کو آخر کیا پیغام دیا جا رہا ہے
ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف مسلسل میڈیا ٹرائل جاری ہے، اسے بلوچستان کی سب سے منظم عوامی تحریک ہونے کے باوجود دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف ریاستی ادارے خود فئیر ٹرائل کے اصولوں اور اپنے قانونی تقاضوں سے انحراف کرتے ہوئے ہمیں ہمارے بنیادی حقِ دفاع سے محروم کر رہے ہیں۔ ہماری چودہ ماہ پر محیط قید، مقدمات کا غیر معمولی طریقۂ کار اور عدالتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عدالتی نظام کو پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہمارے وکلاء کو مقدمات چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ہراساں کیا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، اور بعض مواقع پر عدالتوں کے احاطے میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ہمارے وکلاء نے پیشہ ورانہ ذمہ داری، اور اصولی مؤقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری قانونی نمائندگی جاری رکھی، جس کے لیے ہم ان کے ممنون ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی جمہوری معاشرے میں عدلیہ کا کردار ایسا ہوتا ہے؟ جمہوری نظام میں عدلیہ ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا اور ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کی حدود کے اندر رکھنا ہوتا ہے۔ ایک جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی، سماجی اور انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف قانون، انصاف اور آئین کی روشنی میں فیصلے کرے۔ عدلیہ کی آزادی اسی لیے جمہوری معاشروں کی بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ عدالتوں نے مارشل لا، آئین کی معطلی اور غیر جمہوری اقدامات کو ’’ریاستی ضرورت‘‘ اور ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر قانونی جواز فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں بھی عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کو ریاستی پالیسیوں کے معاون اداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جب ہم ریاست کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف عسکری اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ تمام ادارے بھی شامل ہوتے ہیں جو آئینی حدود اور اپنی قانونی ذمہ داریوں سے ہٹ کر طاقت کے غیر جوابدہ ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ، جس کا بنیادی فرض شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، سیاسی انجینئرنگ اور غیر نمائندہ انتخابی عمل کے نتیجے میں عوامی نمائندگی کے بجائے ریاستی اداروں کی ترجمان بنتی چلی گئی ہے۔بلوچستان اسمبلی کی موجودہ ساخت اس بحران کی ایک مثال ہے، جہاں عوامی نمائندوں کے بجائے ایسے عناصر موجود ہیں جو عوامی مفادات سے زیادہ اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے محافظ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جان، مال اور وقار کے تحفظ میں یہ ادارے مسلسل ناکام رہے ہیں۔ بلوچ قومی رہنما خیر بخش مری نے بھی اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد اسے غیر مؤثر قرار دیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ ادارہ قومی حقوق کے تحفظ کے بجائے طاقتور حلقوں کی پالیسیوں کو قانونی شکل دینے کا ذریعہ بن چکا تھا۔اسی طرح بیوروکریسی بھی ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یوں طاقت، قانون اور انتظامیہ کا ایک ایسا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جو انصاف کے بجائے جبر کو دوام بخشتا ہے۔
جیل کے اندر ہمارا یہ احتجاج صرف ہماری ذات یا ہماری رہائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان اپنے خلاف قائم تمام مقدمات اور مسلسل جبر کے باوجود اپنے سیاسی مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم اپنے قومی اور انسانی حقوق کے لیے ہر جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کرتے رہیں گے۔
ہم ہر اس قانون، پالیسی اور عدالتی عمل پر سوال اٹھائیں گے جو بلوچ عوام کے خلاف ناانصافی اور جبر کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی پر عوام کے اعتماد کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ریاستی اداروں کی نااہلی اور جانبداری کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔
آج ہمارا فیس لیس ٹرائل بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان کتنا بڑا تضاد موجود ہے۔ ہمارے مقدمات کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے اور غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھانے کا مقصد بظاہر انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ہمیں سزا کی طرف دھکیلنا محسوس ہوتا ہے۔
لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قید، جبر اور تشدد کبھی بھی مظلوم کے سوال کو ختم نہیں کر سکتے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان نے عدالت کو صرف اپنے دفاع کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ایک سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا ہے۔ جو سوال ہم جلسوں، احتجاجوں اور عوامی اجتماعات میں اٹھاتے تھے، آج وہی سوال ہم عدالت کے اندر اٹھا رہے ہیں۔
ہمارے مقدمات کی غیر منصفانہ کارروائیاں صرف ہماری ذات کے خلاف نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر انصاف واقعی موجود ہے تو اسے کھلے اور شفاف طریقے سے سامنے آنا چاہیے۔ اور اگر انصاف سے انکار کیا جاتا ہے تو یہی انکار عوام کے سامنے اس نظام کی اصل حقیقت کو آشکار کر دے گا۔
یہ دھرنا، یہ قید، اور یہ مزاحمت ہماری سیاسی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق اور انصاف کی جدوجہد کبھی عدالتوں، جیلوں یا طاقت کے مراکز میں ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ہر اس دل میں زندہ رہتی ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔
