ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی بلوچ کی عمر قید کے خلاف بلوچستان بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہا

 کوئٹہ (نامہ نگار ) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت


اللہ شاہ جی بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزاؤں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی گزشتہ پندرہ ماہ سے جاری حراست کے خلاف آج شال سمیت بلوچستان  کے چھوٹے بڑے شہروں خضدار ،تربت ،گوادر ،حب ،خاران ،نوشکی ،سوراب ،قلات مستونگ ،واشک ،دالبندین ،پسنی ،تمپ نصیر آباد اوردیگر علاقے شامل ہیں   میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ صبغت اللہ شاہ جی کو سنائے گئے سزاء کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ اس ہڑتال کی حمایت مختلف سیاسی جماعتوں، وکلاء تنظیموں اور جمہوری قوتوں کی جانب سے کی گئی ۔
حمایت کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں میں بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP)، مکران بار ایسوسی ایشن، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP)، انصاف لائرز فورم بلوچستان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP)، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM)، عوامی نیشنل پارٹی (ANP)، پشتون تحفظ مومنٹ (PTM)، ‏عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) اور پاکستان تحریک انصاف بلوچستان (PTI) شامل ہیں۔
بالخصوص عوام، تاجر برادری کے تعاون سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیابی سے جاری رہا۔ عوام انصاف، جمہوری حقوق اور عوامی آواز کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

ہڑتال کے دوران کاروباری مراکز، بازار اور دکانیں بند رہیں جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجاً اپنے معمولات معطل کردیئے ۔ اور عمر قید کے فیصلوں اور بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔

مظاہرین اور ہڑتال کے حامیوں کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کے رہنما گزشتہ پندرہ ماہ سے قید میں ہیں اور انہیں ایسے عدالتی عمل کا سامنا ہے جسے وہ شفاف اور منصفانہ نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات سیاسی انتقام، جبر اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ہڑتال نے بلوچستان کے عوام کی جانب سے جبر، سیاسی انتقام اور عدالتی نظام کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف اجتماعی ردعمل کو اجاگر کیا۔ مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام ناانصافی اور جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوششوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات میں شفاف اور منصفانہ قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post