کوئٹہ (پریس ریلیز ) کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں شرکت کے دوران متحدہ عرب امارات اور بعد ازاں پاکستان میں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے بلوچ سیاسی کارکن راشد حسین بلوچ کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج ایک ایسے خاندان کی نمائندہ بن کر کھڑی ہیں جس نے گزشتہ آٹھ برسوں سے اپنے پیارے کی جدائی، انتظار اور ناانصافی کو برداشت کیا ہے۔
ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ ان کے چچا راشد حسین بلوچ کی جبری گمشدگی کو آٹھ سال مکمل ہونے والے ہیں، جبکہ ان کی غیر قانونی طور پر پاکستان منتقلی اور یہاں جبری گمشدگی کو سات سال گزر چکے ہیں، مگر ان تمام برسوں میں انہیں انصاف نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ راشد حسین بلوچ کو سیاسی حالات کے باعث وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا اور وہ متحدہ عرب امارات میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 26 دسمبر 2018 کو انہیں متحدہ عرب امارات میں لاپتہ کیا گیا اور چھ ماہ بعد غیر قانونی طور پر پاکستان منتقل کرکے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج تک راشد حسین بلوچ کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
ماہ زیب بلوچ کے مطابق ریاست نے خود ان کی گرفتاری اور پاکستان منتقلی کا دعویٰ کیا، مگر بعد میں اپنے ہی مؤقف سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے چچا گزشتہ آٹھ برسوں سے ان جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں جو انہوں نے کبھی کیے ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے انصاف کے تمام دروازے کھٹکھٹائے، کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک اپنی فریاد لے کر گئے۔ بلوچستان ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، مختلف کمیشنوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر انہیں انصاف نہیں ملا۔
راشد حسین بلوچ کی بھتیجی نے کہا کہ صرف انصاف نہ ملنا ہی ان کا درد نہیں بلکہ ان برسوں میں ان کے خاندان کو مزید ہراساں بھی کیا گیا۔ انہیں اور ان کے والد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا، ان کے والد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے جبکہ ان کے کئی رشتہ داروں کو بھی لاپتہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انصاف مانگنا ہی ان کے لیے جرم بنا دیا گیا ہے۔
ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ ریاست بار بار کہتی ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر انصاف مانگا جائے، لیکن اگر آٹھ سال تک ایک خاندان کو انصاف نہ ملے تو پھر انصاف کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ اور آئین کس کے لیے ہے؟
انہوں نے پاکستان کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور تمام انصاف پسند افراد سے اپیل کی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں، راشد حسین بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں اور متاثرہ خاندانوں کے درد کو سنیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ جب ایک انسان لاپتہ ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان قیدِ انتظار میں چلا جاتا ہے۔
