کوئٹہ ( نامہ نگار )انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس مبین نے آج میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق ایک نہایت متنازع اور سوالات سے بھرپور مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے یہ بات نادیہ بلوچ نے جاری بیان میں کہی ہے ۔
انھوں نے کہاہے کہ یہ مقدمہ خود اپنے بنیادی حقائق کے اعتبار سے مشکوک ہے۔ ایک ہی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے واقعے پر دو مختلف تاریخوں میں دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں جو پورے کیس کو سوالیہ نشان بناتی ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قانون کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، پھر ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے اور بعد ازاں ایک ایسا ٹرائل چلایا گیا جس پر ابتدا ہی سے جانبداری اور تنازع کے سائے منڈلاتے رہے۔ یہ بات ہم پر روزِ اول سے واضح تھی کہ ریاست کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ماہ رنگ بلوچ کو ہر قیمت پر سزا دینا ہے۔
ماہ رنگ کا جرم کیا ہے؟ نہ انہوں نے تشدد کیا، نہ کسی جرم کا ارتکاب کیا۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز بلند کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بڑھتی ہوئی قومی اور بین الاقوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئیں، بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں شامل کی گئیں اور ٹائم میگزین سمیت دنیا کے معتبر اداروں کی توجہ حاصل کی۔ ایک ایسی آواز جو عالمی سطح پر سنی جانے لگی، ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سزائیں ماہ رنگ بلوچ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ وہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم، باحوصلہ اور اپنے مقصد کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جب ہم نے اس جدوجہد کا راستہ چنا تھا تو ہمیں اس کی قیمت کا بخوبی اندازہ تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جو سزا دے سکتا ہے، قید کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، اغوا کرسکتا ہے مگر ہمارے نظریے، ہمارے حوصلے اور ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
انھوں نے مزید کہاہے کہ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ثابت قدم رہے، منظم رہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ مزید استقامت، اتحاد اور مزاحمت کا ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ سزاؤں اور جبر کے ذریعے ایک تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو فراموش کر رہی ہے۔
نادیہ نے آخر میں کہاہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن خواتین اور رہنماؤں کی روایت کا تسلسل ہیں جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ قید ان کے جسم کو محدود کر سکتی ہے لیکن ان کے نظریے اور آواز کو نہیں۔
