نہ جج موجود ہوں، نہ ملزمان اور نہ ہی ان کے وکلا، تو پھر قانون، انصاف اور آئین میں کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اخترجان مینگل


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے سماجی رابطے کے سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ جب فیصلے بند کمروں میں کیے جائیں، جہاں نہ جج موجود ہوں، نہ ملزمان اور نہ ہی ان کے وکلا، تو پھر قانون، انصاف اور آئین میں کیا باقی رہ جاتا ہے؟
لاپتا افراد اور ماورائے عدالت قتل کے متاثرین کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ قانونی تحفظات صرف چند مخصوص لوگوں کے لیے مختص ہیں۔ جمہوریت اور عدلیہ کا مذاق اڑانا بند کریں۔ اگر بلوچستان واقعی اہمیت رکھتا، تو اس کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا جاتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے ایک ایسے مقام کے قریب دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی،

Post a Comment

Previous Post Next Post