آواران(رپورٹ الطاف ظہیر ) آواران کے علاقے ڈھل نیابت میں پیش آنے والے افسوسناک قتل کے واقعے پر پولیس نے فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے محض 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا۔ تیز رفتار کارروائی نے عوام میں اعتماد کی فضا بحال کر دی۔
ایس ایس پی آواران حاصل خان قمبرانی کی پیشہ ورانہ قیادت میں ایس ایچ او سٹی تھانہ آواران عبدالوحید بلوچ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر سرچ اور انویسٹی گیشن کا آغاز کیا۔ جدید تفتیشی طریقوں شواہد کے باریک بینی سے جائزے اور مربوط حکمت عملی کے تحت پولیس نے ملزم تک رسائی حاصل کی۔
تحقیقات کے مطابق ملزم حبیب اللہ نے اپنے سگے بھائی محمد آصف کو خنجر کے وار کر کے قتل کیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا تھا۔ تاہم پولیس نے شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے اسے آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔
ایس ایس پی حاصل خان قمبرانی کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور مجرم خواہ کوئی بھی ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ انہوں نے پولیس ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
اہل علاقہ نے اس کامیاب کارروائی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی حاصل خان قمبرانی کی بہادرانہ اور بروقت حکمت عملی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر قیادت مضبوط ہو تو جرائم پیشہ عناصر زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتے۔ شہریوں نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر حاصل خان قمبرانی جیسے بہادر اور دیانتدار افسر کچھ مزید عرصہ آواران میں خدمات سرانجام دیں تو ضلع میں امن و امان مکمل طور پر بحال ہو سکتا ہے اور کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہیں کرے گا۔
یہ بروقت اور مؤثر کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ آواران پولیس جرائم کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہمہ وقت متحرک اور پرعزم ہے۔
