کراچی ( نامہ نگار )
سی ٹی ڈی کراچی نے ملیر شاہ لطیف ٹاؤن میں منگل کی شب ایک مبینہ مقابلے میں چار نوجوانوں کے مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سندھ پولیس کے محکمہ سی ٹی ڈی کے دعویٰ کے مطابق مارے گئے افراد کا تعلق بلوچ مسلح تنظیم سے تھا اور وہ ایک کارروائی کے دوران مارے گئے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن اظفر مہیسر کے مطابق کارروائی گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس ٹیم ایک گھر پر پہنچی تو وہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار افراد مارے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
مارے گئے تین افراد کی شناخت جلیل ولد نور محمد، نیاز قادر ولد قادر بخش اور حمدان عرف حکیم ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
تاہم واقعے کے فوراً بعد اہلِ خانہ نے پولیس کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارے گئے افراد پہلے سے لاپتہ تھے اور ان کی بازیابی کے لیے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی جا چکی تھیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ سی ٹی ڈی کی کسی کارروائی پر سوالات اٹھے ہوں۔ ماضی میں بھی بلوچستان اور کراچی میں مبینہ مقابلوں کے بعد جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں.
تربت میں 15 سالہ لڑکے کا اغوا، کیا واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی؟ اطلاعات کے مطابق آج منگل کو دوپہر ایک بجے کے قریب تربت کے علاقے ہیرونک میں ایک کمسن لڑکے کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مغوی نیک محمد ولد سلطان کی عمر تقریباً 14 تا 15 سال بتائی جاتی ہے انہیں ہیرونک میں گھر کے قریب واقع ایک دکان سے موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
علاوہ ازیں پنجگور کے علاقے چتکان، سی پیک روڈ گیس پلانٹ کے قریب سے گزشتہ رو ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی، جسے شناخت کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
لاش کی شناخت لاپتہ اصیل ولد عبدالقادر، ساکن ناگ ضلع واشک کے نام سے ہوا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق اصیل کو دسمبر 2025 میں ناگ سے قابض پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔
بعد ازاں ان کی تشدد زدہ لاش 16 فروری 2026 کو پنجگور کے علاقے چتکان، سی پیک روڈ گیس پلانٹ کے قریب سے برآمد ہوئی۔
