کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ دولت بلوچ ولد بدل سکنہ تیجابان، ایک غریب کسان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے آبائی زمینوں پر کاشتکاری کرتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ مارچ 2022 میں فرنٹیئر کور نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ دولت اور ان کے 12 سالہ بھائی کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا اور ایک ماہ تک نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا گیا۔ ایک ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا، مگر جبر اور ناانصافی کا سایہ ان کی زندگی سے کبھی ختم نہ ہوا۔ دولت اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ آئے، مگر ظلم کی یاد ان کے ساتھ رہی۔
مزید کہاکہ 18 فروری 2026 کو دوپہر تقریباً 2 بجے جب وہ گھر واپس آ رہے تھے تو موٹر سائیکل سوار ڈیتھ اسکواڈ نے انہیں نشانہ بنا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔
ان کا خاندان شدید خوف میں زندگی گزار رہا ہے اور اپنے پیاروں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں: ہم کہاں جائیں؟ ہم کیسے زندہ رہیں جب اپنی قوم سے محبت کرنا جرم بنا دیا گیا ہو؟ یہ ناانصافی صرف دولت کے خلاف نہیں ،بلکہ ہر بلوچ کے خلاف ہے۔
آخر میں کہاکہ ہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی اداروں سے فوری اقدام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، ماورائے عدالت قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ بلوچ عوام کو اپنی سرزمین پر آزادی سے جینے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔
