شال (نامہ نگار )
کیچ کے علاقے کولواہ آشال سے بارہ فروری کی شب دو بجے پاکستانی فورسز نے ایک 18 سالہ نوجوان اعجاز بلوچ ولد عبدالغفور کو اس کے گھر سے اٹھا کر لاپتہ کردیا۔
جبکہ پندرہ فروری کی شب اعجاز بلوچ کے بڑے بھائی نواز بلوچ ولد عبدالغفور کو تربت سے کولواہ آتے ہوئے قابض فورسز نے لوکل گاڑی سے اتار کر جبری لاپتہ کردیا۔
علاوہ ازیں پاکستانی فورسز نے 3 فروری 2026 کو شام تقریباً 8 بجے مستونگ کے علاقے دشت روڈ سے ایک دکاندار کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت عثمان بلوچ ولد محبوب کے نام سے ہوئی ہے، جو مستونگ دشت روڈ کے رہائشی بتائے جاتے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے ایک دکاندار ہیں۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے 3 فروری 2026 کی شام عثمان بلوچ کو ان کی دکان سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عثمان بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
اس طرح نوشکی کے علاقے قاضی آباد سے تعلق رکھنے والے عبدالقدیر بلوچ کو 30 تاریخ کو دوپہر تقریباً تین بجے کوئٹہ کے علاقے لیاقت پارک سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق عبدالقدیر بلوچ ولد ذوالفقار بلوچ پیشے کے اعتبار سے ڈیزل پمپ چلاتے ہیں۔ وہ اپنے کاروباری امور کے سلسلے میں کوئٹہ آئے تھے۔
