کراچی ( نامہ نگار)
کراچی کے معروف اشاعتی ادارے علم و ادب کے ڈائریکٹر چنگیز بلوچ بازیاب ہوگئے۔انہیں 21 جولائی 2025 کو کراچی کے اردو بازار سے نامعلوم مسلح افراد نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا، آج بازیاب ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق معروف اشاعتی ادارہ علم و ادب پبلشر کے ڈائریکٹر چنگیز ساحر تقریباً پانچ ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد آج بازیاب کیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق چنگیز بلوچ کی بازیابی کے بعد انہیں اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کہاں اور کن حالات میں رکھا گیا تھا۔ اہلِ خانہ نے ان کی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 21 جولائی 2025 کو صبح کے وقت تقریباً دس نقاب پوش مسلح افراد نے کراچی کے اردو بازار میں واقع علم و ادب پر چھاپہ مارا تھا۔ اس دوران مسلح افراد نے بک مال سینٹر کی پہلی اور دوسری منزل پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑ دیا اور ریکارڈ ضائع کرنے کے بعد تیسری منزل پر واقع دکان سے چنگیز بلوچ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی تشویشناک سمجھا جا رہا تھا کہ اس سے قبل اسی اشاعتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر لالا فہیم بلوچ کو بھی تین سال قبل اسی دفتر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو تین ماہ بعد بازیاب ہوئے تھے۔
علم و ادب کراچی کا ایک معروف اشاعتی ادارہ ہے جو اردو بلوچی اور دیگر علاقائی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ نایاب اور تحقیقی کتب کم قیمت پر فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ادارے سے وابستہ حلقوں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں نے چنگیز بلوچ کی بازیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔
