تربت عبدوئی باڈر کی بندش کیخلاف ریلی نکالی گئی ،سوراب باڈر کی بندش خلاف احتجاج کیاجائے گا ۔اعلامیہ جاری



تربت ( نامہ نگار ) تربت عبدوئی باڈر کی بندش کے خلاف متاثرین کی طرف سے تربت غلام نبی چوک سے شہید فدا چوک تربت تک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت باڈر  تحریک کے رہنماء سردار ولی یلان زئی کررہے تھے۔

ریلی کے شرکاء نے شہید فدا چوک پر احتجاج کرتے ہوئے باڈر بندش کو معاشی ناکہ بندی قرار دیا۔

سردار ولی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں باربار دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ باڈر آج یا کل کھول دیا جائےگا لیکن یہ لولی پوپ کے سوا کچھ نہیں، سوراپ مند باڈر پر گاڈیاں گئی ہیں لیکن کوئی نہیں آیا ہے تیل دینے کے لیے یہاں ایرانی گاڈیاں نہیں آسکتیں۔

لہذا باڈر کو سابقہ طرز پر عبدوئی کراسنگ پوائنٹ کے مقام پر بحال کیا جائے اور ہمیں کاروبار کا موقع فراہم کیا جائے۔

اس موقع پرباڈر بندش کے حوالے سے شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔


دوسری جانب تجارت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ سوراپ بارڈر عوام کے لیے عذاب بن گیا، عبدوئی بارڈر مستقل کھولنے کا مطالبہ، سخت احتجاج کیلئے رابطہ کاری شروع کیاگیا ہے ۔

انھوں نے کہاہے کہ سوراپ بارڈر کی موجودہ صورتحال نے سرحدی علاقوں کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بارڈر کی بندش اور ناقص انتظامات کے باعث عوام، تاجر برادری، گاڑی مالکان، مزدوروں اور بارڈر سے وابستہ خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر آل پارٹیز، تاجر تنظیموں، بارڈر کمیٹی، یونینز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی اندرونِ خانہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جن میں احتجاجی تحریک چلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر یہ اقدامات دراصل عوام کا ’’معاشی قتل‘‘ ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سوراپ بارڈر کو عبدوئی بارڈر کے متبادل کے طور پر کھولا گیا تھا، مگر بدقسمتی سے یہ بارڈر اپنے بنیادی مقصد میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ نہ تو یہ بارڈر تجارت کے لیے مؤثر ہے اور نہ ہی عوامی مشکلات میں کسی قسم کی کمی لا سکا ہے۔
عوامی نمائندگان اور تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ اور بالائی بااختیار اداروں کے رویّے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عوام کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی عوام کو سہولت دینا مقصود ہے تو عارضی، غیر مؤثر اور ناکام فیصلوں کے بجائے عبدوئی بارڈر کو مستقل بنیادوں پر کھولا جائے۔
بارڈر متاثرین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اگر چند روز کے اندر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ اپنے آئینی اور قانونی حق کے تحت سخت سے سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
یہ آواز ان تمام خاندانوں، مزدوروں اور تاجروں کی ہے جو اس ناکام پالیسی کے باعث براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں اور جن کا روزگار بارڈر سے وابستہ ہے۔ عوام نے حکومت سے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید خاموشی ممکن نہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post