دنیا کے ہر حکمران کو ایک نہ ایک دن اپنے اقتدار کے محل سے باهر ضرور آنا ہے کبهی اپنے قدموں پر تو کبهی دوسروں کے کندهوں پر...

 


عراق  ( ویب ڈیسک )
‏صدر صدام حسین بارے کہاجاتا ہے کہ گرفتاری کے بعد عدالت عالیہ کو یہ درخواست کی تھی کہ اسے قید کے دوران نہ تو کپڑے دهونے اور نہ ہی سگریٹ پینے کی اجازت ہے۔ اور تو اور اسے پچھلے دو سال سے جوتوں کا صرف ایک جوڑا دیا گیا ہے جو کب کا پهٹ چکا ہے۔ خیر عدالت نے یہ سارے مطالبات منظور کر لیے ‏اور یوں جوتوں کے نئے جوڑے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کے اندر کپڑے دهونے اور سگریٹ پینے کی اجازت بھی دے دی گئی۔

صدام حسین عراق کا وہ حکمران تھا جو 48 محلات، تین ہزار قیمتی سوٹوں، اڑهائی سو جوتوں، دس هزار خوشبو کی بوتلوں اور گیارہ سو قیمتی گاڑیوں کا مالک تها۔

‏جس نے اپنی مونچهیں رنگنے کے لیئے بارہ ماهرین کی ٹیم رکهی ہوئی تھی۔ جس کے سگار هوانا سے آتے تھے۔ جس کے لیے مشروبات فرانس کی کمپنیاں بناتی تهی۔ جس کے کپڑوں کا ناپ لینے کے لیے ٹیلر لندن سے آتا تها۔ جس کے صرف کپڑے دهونے کے لیے بغداد میں رائل واشنگ سینٹر بنایا گیا تها ‏جس کے دهوبی کو اعزازی کرنل کا رینک دیا گیا تها۔ جس کے کسی بهی سوٹ کی باری دو یا تین سال کے بعد آتی تهی۔

میرا دل چاهتا ہے کہ صدام حسین مرحوم کی وہ تصویر جس میں وہ خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھو رہا ھے۔ دنیا کے تمام حکمرانوں کے بیڈ روم میں لگوا دوں اور ‏ان سے عرض کروں کہ انسان آخر انسان ہے وہ خدا کبهی نہیں بن سکتا اور دنیا کے ہر صاحب اقتدار کا اقتدار ایک دن ختم هو جانا ہے اور دنیا کے ہر حکمران کو ایک نہ ایک دن اپنے اقتدار کے محل سے باهر ضرور آنا ہے کبهی اپنے قدموں پر تو کبهی دوسروں کے کندهوں پر... . . .


Post a Comment

Previous Post Next Post