ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا جیل سے بی وائی سی کے کارکنان کے نام خط

 


‏شال ( مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گزشتہ ماہ 28 مارچ کو عوام کے نام  جاری خط میں لکھا ہے ۔ میرے باشعور، باعمل اور بہادر ساتھیو!
‏مجھے معلوم ہے کہ حق اور انصاف کی جدوجہد بہت مشکل اور کٹھن ہوتی ہے۔ اپنے حقوق اور انصاف کے لیے لڑنے کے لیے ہمیں پھولوں پر نہیں بلکہ کانٹوں پر چلنا ہوتا ہے، اور مجھے فخر ہے کہ آج میرے ساتھیوں نے مشکل اور سخت حالات کو خندہ پیشانی سے قبول کیا ہے اور انتہائی بہادری کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

‏اس جیل کی تاریک دنیا میں، جہاں نہ دن کی خبر ہوتی ہے، نہ رات کی، اور نہ ہی باہر کی دنیا کی کوئی ہوا ہم تک پہنچتی ہے، وہاں جب مجھے یہ خبر ملی کہ ہماری گرفتاری کے بعد ہمارے ساتھی ایک لمحے کے لیے بھی خاموش نہیں ہوئے اور سخت و مشکل حالات کے باوجود بلوچستان بھر میں عوامی مزاحمتی تحریک کو منظم رکھے ہوئے ہیں، تو اس کال کوٹھری کی تاریکی بھی مجھے روشن محسوس ہونے لگی۔ مجھے اپنے مادرِ وطن بلوچستان کی تازہ ہوا کی خوشبو محسوس ہوئی اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ میرا تعلق ان باشعور، باعمل اور بہادر لوگوں سے ہے، جنہیں سر کٹوانا آتا ہے مگر جھکانا نہیں!

‏میرے ہم وطنو!
‏ہمیں اپنے حقوق اور انصاف کے حصول سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور نہ ہی ہمیں کمزور کر سکتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اپنے حقوق اور انصاف کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد کو جاری رکھنا ہے، کیونکہ ہماری بقا اسی جدوجہد میں ہے اور خاموشی میں ہماری اجتماعی موت ہے۔ ہمیں اشتعال دلانے اور ہماری پُرامن جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے کئی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، مختلف سازشیں رچی جا رہی ہیں، لیکن ہمیں کسی بھی صورت اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹنا، بلکہ تمام تر مشکلات کے باوجود اسے جاری رکھنا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ہمارا حق بلکہ ہمارا فرض بھی ہے۔

‏اس کے ساتھ ساتھ، میں آپ سب سے التجا کرتی ہوں کہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے خاندانوں کو کسی بھی صورت اکیلا نہ چھوڑیں۔ ان ماؤں، بہنوں، معصوم بچوں اور بزرگوں کا حوصلہ آپ لوگوں کو بننا ہے۔ ان کی ہر پکار پر لبیک کہنا ہے، انہیں غیروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا، بلکہ ان کی جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہو کر ان کے لیے آواز بلند کرنی ہے۔

‏میرے مستقل مزاج ساتھیو!
‏اس وقت مستقل مزاجی کا اصل مفہوم آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے! آپ ہی ہیں جو سخت ترین حالات میں نہ صرف اپنی پُرامن جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس عوامی تحریک کو مزید منظم بھی کر رہے ہیں۔ آپ کی جدوجہد اور قربانیوں نے اس تحریک کو مزید تقویت بخشی ہے۔ ہمیں اب نہ صرف اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہے بلکہ اسے مزید منظم اور مضبوط بھی کرنا ہے۔ اس تحریک کی کامیابی ہمارے سیاسی شعور، مستقل مزاجی اور اخلاص سے وابستہ ہے، اور مجھے آپ پر مکمل بھروسا ہے کہ آپ اپنی بصیرت، استقامت اور اخلاص کے ذریعے اس جدوجہد کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں گے۔

‏میرے دوستو!
‏آخر میں، میں آپ سے بس یہی التجا کرتی ہوں کہ ہمیں ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا ہے۔ ہماری اصل طاقت ہمارا حوصلہ اور ہماری برداشت ہے۔ ہمیں اپنے حوصلے چلتن کے پہاڑوں کی مانند بلند رکھنے ہیں۔ ہمیں مایوسی کے سائے کو اپنے درمیان پنپنے نہیں دینا، غصے اور اشتعال کی جگہ شعور اور حکمت سے فیصلے لینے ہیں۔ ہمیں کمزور اور مایوس کرنے والوں سے مشورہ نہیں لینا چاہیے، اور ہمیں منافقوں اور انتشار پھیلانے والوں سے خود کو دور رکھنا ہے۔

‏ہماری اصل طاقت ہماری اجتماعی سوچ اور اجتماعی جدوجہد ہے۔ ہماری طاقت ہماری قوم کا حوصلہ، ہماری مثبت طرزِ فکر اور ہماری استقامت ہے۔ ہمیں ہر حال میں اپنی طاقت کو سنبھالنا ہے۔ یہ جیل، یہ زنجیریں، یہ لاٹھیاں اور بندوقیں ہمیں توڑ نہیں سکتیں۔

‏یہ میرا پختہ ایمان ہے:
‏کامیابی ہماری ہوگی!

‏جدوجہد زندہ باد!
‏مزاحمت زندہ باد!
‏بلوچ قوم زندہ باد!

‏آپ سب سلامت رہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post