مستونگ قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر شیلنگ کی مذمت کرتاہوں ،پر امن لانگ مارچ کو راستہ دیا جائے ورنہ ذمہدار خود ہونگے۔سردار اختر جان مینگل جھڑپیں جاری فائرنگ



مستونگ ( مانیٹرنگ ڈیسک)  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے ایک پر پوسٹ کرتے  ہوئے کہا ہے کہ ہم شدید تشویش اور غم و غصے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لکپاس ٹنل پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں پر ریاستی فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی، اور 250 سے زائد کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ریاستی جبر پُرامن اور آئینی احتجاج کو کچلنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

مینگل  نے کہا ہے کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک مکمل طور پر پُرامن ہے، اور ہمارے مطالبات نہایت جائز اور انسانی بنیادوں پر ہیں۔ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو، جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، فی الفور رہا کیا جائے۔ ان کی رہائی کے بغیر کوئی مذاکرات، کوئی یقین دہانی، اور کوئی وعدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

انھوں  نے مزید کہاہے کہ کارکنوں پر حملے، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم ظلم کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ ہمارا اتحاد، ہمارا عزم، اور ہماری قربانیاں اس جدوجہد کو اس کی منزل تک ضرور پہنچائیں گی۔

اخترجان نے آخر میں کہاہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ بی این پی  رہنماؤں اور کارکنان پر شدید فائرنگ اور شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سابق گورنر ملک عبدالولی کاکڑ، سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ، میر مقبول لہڑی، سابق وزیر مملکت حاجی ہاشم نوتیزئی، جمعہ خان کبدانی اور دیگر پارٹی کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

*اختر مینگل کا قافلہ لکپاس ٹنل پر محصور*

مستونگ میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کا قافلہ تاحال لکپاس ٹنل پر موجود ہے، جہاں سخت سیکیورٹی حصار اور کشیدہ صورتحال برقرار ہے۔

*لکپاس ٹنل اور ٹول پلازہ بند، شدید جھڑپیں جاری*

مستونگ میں لکپاس ٹنل اور ٹول پلازہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ٹول پلازہ کے قریب شدید شیلنگ اور مظاہرین کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post