پاکستان کی جانب سے ایرانی سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے بعد ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے۔
سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح جنوب مشرقی ایرانی شہر پر پاکستان کے حملے میں ہلاک ہونے والے 7 افراد ایرانی شہریت نہیں رکھتے تھے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ان کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر جنرل علی رضا مرہماتی نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 04:05 بجے کیا گیا جس میں ایک ایرانی سرحدی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
ارنا نیوز کے مطابق ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا پتا اس وقت لگا جب سراوان کے آس پاس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ڈپٹی گورنر مرہماتی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں3 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔
انھوں نے ارنا نیوز سے کہا کہ سراوان کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا، خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سراوان کا علاقہ سیستان بلوچستان کے صدر مقام زاہدان سے 347 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے، جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔
