انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کو کوئی بھی قانونی مدد حاصل نہیں،ماما قدیر



جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ کو 5236 دن مکمل ہوگیا  ۔

اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او پجار کے سینئر وائس چیرمین بابل ملک جوائنٹ سیکریٹری نحمت شاہ اور سی سی ممبر ایم جے نے اظہار یکجہتی کی۔ 

  اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ وی بی ایم پی نے جبری گمشدگی کے اس مسلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے بین القوامی توجہ اس جانب مبزول کروانے کے لئے احتجاج کے تمام زرائع اپناتے ہوئے بھوک پڑتالی کیمپ لگائے ہوئے ہیں ۔ مگر اس کے باوجود  پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے کسی چیز کو خاطر میں لائے بغیر بلوچستان میں ننگی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ پاکستان کی حکومت بھی مسلے پربار بار اپنے بیانات تبدیل کرتی چلی آ رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیوں کے تحویل ہزاروں بلوچ اب بھی ہیں، لیکن موجودہ نگران حکومت صرف 50 افراد کی جبری گمشدگی ظاہر کرتی ہے اور ان افراد کے بارے میں بھی یہ کہتے ہیں۔  کہ وہ پاکستانی فورسز کے پاس نہیں ہیں ، حالانکہ حقیقت میں تو 65000 سے زائد جبری لاپتہ افراد پاکستانی ایجنسی والوں کے عقوبت خانوں میں بند ہر روز موت کا سامنا کر رہے ہیں،  لیکن پاکستانی حکومت انتہائی مجرمانہ انداز میں معاملے پر انکاری ہے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے پاکستان حکومت نے متعدد اجلاس منعقد کئے اور کئی کمیٹیاں تشکیل دیں لیکن کوئی بھی کمیٹی آج تک اپنی رپورٹ پیش نہیں کر سکی ، کیونکہ بلوچستان ایک چھاونی کی شکل اختیار کرچکا ہے جہاں تمام فیصلے فوج اور ایجنسیوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اگر یہاں فوج اور اسکے حواریوں کی ننگی جارحیت کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اسے نشان عبرت بنایا جاتا ہے دوسری جانب انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا کردار ماسوائے سالانہ رپورٹ کے کچھ نہیں ہے۔


مامانے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ  بلوچستان میں کوئی بھی مانٹرنگ میکینزم نہیں ہے اور اج موجودہ حالات کو کسی نے مانیٹر نہیں کیا اس کے علاوہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کو کوئی بھی قانونی مدد حاصل نہیں، ایک انتہائی اہم باتھ یہ ہے کہ نگران حکومت نے جو اعداد مسنگ پرسنز کے بارے میں شائع کئے تھے انہیں وی بی ایم پی نے رد کر دیا تھا۔ اس صورت حال  میں آئے روز بلوچستان میں طلبا سیاسی کارکن اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری اغوا اور شہید ہوتے آرہے ہیں۔

جبری گمشدگیوں اور فیک انکاؤنٹر میں لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے خلاف کل ١٨ نومبر کو وی بی ایم پی نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کا بھی اعلان کیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post