بلوچستان کے ضلع کوہلو میں نیشنل پریس کلب کے صحافیوں کا آزادی صحافت پر قدغن صحافیوں کو پریشرائز و حراساں کرنے کے خلاف آج کوہلو کے ختم نبوت چوک پر امن احتجاج ریکارڈ کیا گیا، نیشنل پریس کلب کے صحافیوں نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ زکریہ مسیح قتل کیس کی کوریج کا جواز بنا کر کرپٹ رسالدار میجر شیر محمد مری نے صحافیوں کو پریشرائز کرنے اور بلیک میل کرنے کے لئے ناجائز کیس بنائے ہیں، جو آزادی صحافت پر قدغن ہے۔
نیشنل پریس کلب کے صدر نے احتجاج کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ لیویز فورس کے رسالدار میجر نے کوہلو میں اپنی بادشاہت قائم کر دی ہے، جس کے خلاف سیاسی قائدین و قبائلی عمائدین بولنے سے قاصر ہیں، رسالدار میجر ایک شولڈر پروموشن و انپڑہ آفیسر ہے، جو 3 ہزار لیویز اہلکاروں سے بھتہ لے کر اعلیٰ افسران تک پہنچا دیتا ہے، کوہلو میں کل لیویز اہلکاروں کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے ۔لیکن ضلع میں اس وقت 12 سو اہلکار بھی تعینات نہیں ہیں ۔ اگر کچھ ہیں بھی تو ان کو صرف اپنی تشہیر کے لیے استعمال کر کے مختلف جلسوں و جلوسوں میں بھیج دیتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ لیویز فورس ایک سکیورٹی فورس ہے جس کا مقصد عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے لیکن یہاں ایک کرپٹ رسالدار میجر نے پوری فورس کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہے اور ذاتی تشہیر و انتقامی کارروائیوں میں استعمال کرتا ہے، ہم بحیثیت صحافی نگراں سیٹ اپ و ڈی جی لیویز سے مطالبہ کرتے ہیں ، ایسے آفیسران کو نوکری سے فارغ کیا جائے تاکہ عوام و فورس کے مابین مذید نفرتیں جنم نہ لیں۔
ان کا مذید کہاکہ انپڑہ رسالدار میجر کو اتنا بھی خبر نہیں کہ اس کے اپنے دفعدار نے دوران پولیس تفتیش انکشاف کرتے ہوئے انہیں شریک جرم قرار دیا دیکر بعد ازاں پولیس آفیسر نے ان کو ملزم نامزد کیا تھا ۔ صحافیوں نے صرف اس کیس کی کوریج کی جو ہر صحافی کا حق ہے کہ وہ آزادانہ رپورٹنگ کریں اور تمام تر کاروائی عوام کے سامنے آئے۔
صدر نیشنل پریس کلب نے کہاکہ رسالدار میجر کی طرف سے لیگل نوٹس کا مطلب صحافیوں کو پریشرائز کر کے حقائق کو چھپانا یے۔ جس طرح انہوں نے برکت مسیح کو ڈرا دھمکا کر ان کے بیانات تبدیل کروائے ، لیکن یہ ان کی بھول ہے کہ نیشنل پریس کلب حق و سچ کا راستہ چھوڑ کر ایک کرپٹ رسالدار میجر کی تشہیر میں لگ جائیں گے، نیشنل پریس کلب کوہلو کے صحافیوں کے لیے یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی وہ دھونس دھمکیوں کا سامنا کر چکے ہیں اور وہ کرتے رہیں گے کیونکہ اس معاشرے میں حق و سچ چند ہی لوگوں کو ہضم ہوتا ہے جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں۔
نیشنل پریس کلب کے صدر نے صحافیوں کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پر زور دیا کہ وہ رسالدار میجر کو ضلع بدر کریں کیونکہ کہ ان سے صحافیوں کو خطرہ ہے۔ اگر ایک ہفتے تک اس کرپٹ رسالدار میجر کو ٹرانسفر نہیں کیا گیا تو اپنے تمام صحافتی تنظیموں سے رابطہ کر کے اس احتجاج کو ملک بھر پھیلائیں گے اور ہر جگہ صحافی برادری سڑکوں پر نکل پڑیں گے ۔