بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلے لگائے گئے کیمپ کو 5002 دن مکمل




بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتال کیمپ کو 5002 دن ہوگئے۔


اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے سابق چیئرمین مہیم خان بلوچ سمیت دیگر مختلف طبقہ فکر کے لوگوں شامل تھے ۔ 


اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ جب کسی جنگل میں آگ لگتی ہے اور آپ اسکو بجھانے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو دیکھتے دیکھتے وہ آگ تمام جنگل کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے، پھر اس میں معصوم اور بیگناہ لوگ بھی آگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، آج بلوچستان میں یہی صورت حال ہے کہ اس لگائی گئی آگ کو بجھانے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا نہیں تو وہ بھی اس ریاستی جبر سے نہیں بچیں گے -


انہوں نے کہا کہ آج بلوچ قوم کی لڑکیاں تک ریاستی عقوبت خانوں میں قید ہیں، بلوچ قوم کے ہر طبقہ فکر کے لوگ اس جبر کے شکار ہیں، سب کو کو بلوچ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ فلاں مرد ہے یا عورت یا بوڑھا ہے جوان، طالبعلم سے لیکر اساتذہ غریب سے لیکر امیر سب بلوچ ہونے کے جرم میں بھگت رہے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ رمضان کے نیک اور بابرکت مہینے میں بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکا نہیں، کیچ  سے ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ رات گئے گھنہ کے علاقے میں فورسز نے ایک گھر پہ چھاپہ مار کر وہاں عورتوں اور بچوں کو زدکوب کرنے کے بعد دو نوجوانوں صغیر اور طارق کو اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیا ہے -

بلوچستان میں ایک دفعہ پھر جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے -

Post a Comment

Previous Post Next Post