نصیر آباد ریجن تعلیمی و صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ، یونیورسٹیز کا‌ قیام ناگزیر ہے ‎بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی



‎بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ اس جدید دور میں ترقی کےلیے واحد راستہ تعلیم ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم انسان کے بنیادی ضروریات اور حقوق میں تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان آج بھی زندگی کے بنیادی سہولیات خاص کر تعلیم جیسے حقوق سے محروم ہے۔بلوچستان کے بیشتر علاقے خاص کر نصیرآباد ڈویژن کو پچھلے ستر سالوں سے بنیادی تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ نصیر آباد میں بنیادی تعلیم کےلیے اکثر علاقوں میں پرائمری اسکول ہی موجود نہیں ہیں۔ اگر کہیں اسکول موجود ہیں تو اساتذہ کی عدم موجودگی، خستہ حال عمارت ، بنیادی سہولیات نہ ہونے کے سبب غیر فعال ہیں۔ 



‎ انھوں نے کہا ہے کہ اکثر مقامی لوگوں کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت پرائمری اسکول سے لے کر کالجز تک اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں لیکن پچھلے سات دہائیوں سے نصیرآباد میں اعلیٰ تعلیمی ادارے یعنی یونیورسٹیز نہ ہونے کے باعث ہزاروں کی تعداد میں طلبا و طالبات تعلیم جیسی بنیادی حق سے محروم ہیں اور تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہیں۔

‎آج کے جدید دور میں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کو مہیا نہ کرنا سماج کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا خطہ جو بلوچستان بھر میں اہم زرعی پیداوار کا زریعہ ہے لیکن وہاں آج تک زرعی یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ایک لوامز یونیورسٹی کیمپس موجود ہے لیکن وہ پچھلے کئی سالوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔اعلی تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی کے باعث ڈویژن بھر کے نوجوانوں میں غیرسماجی سرگرمیوں میں بڑھتا رجحان مستقبل میں تباہی کا باعث بنے گا۔


‎ترجمان نے بیان میں  کہا ہے کہ جس طرح نصیرآباد ڈویژن اعلی تعلیمی سہولیات جیسے یونیورسٹییز سے محروم ہے اسی طرح صحت جیسی بنیادی انسانی سہولیات بھی وہاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ عطائی ڈاکٹروں کی وجہ سے کالے یرقان اور ایڈز جیسے خطرناک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر نہ صرف فعال ہسپتال بلکہ میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لانا چاہیے تھا کیونکہ علاج کے ساتھ آگاہی اولین درجہ رکھتی ہے جو کہ تعلیم سے ممکن ہے، لیکن آج تک اس نقطے کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ نصیرآباد اور اس سے ملحقہ علاقوں کے مریض علاج معالجے کے لیے سندھ کا رخ کرتے ہیں  نصیرآباد تعلیم اور صحت کے حوالے سے بلوچستان  بھر میں نچلی سطح پر ہے۔


‎انھوں  نے اپنے بیان کے آخر میں حکومت وقت کی توجہ مبذول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہےکہ نصیرآباد میں پبلک یونیورسٹیز اور میڈیکل کالج کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کی زمہ داری بنتی ہے کہ ڈویژن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کو یقینی بنائے۔ اس حوالے سے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی دیگر قوم دوست تنظیموں اور پارٹیوں کی توجہ بھی مبذول کروانا چاہتی ہے کہ وہ اس مسلۓ کو سنجیدہ لے کر اپنی آواز بلند کریں

Post a Comment

Previous Post Next Post