ہر آنے والے دن کے ساتھ گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماما قدیر



کوئٹہ  بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4976 دن ہوگئے. 


اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے رہنماؤں تاج محمد کاکڑ رحمت اللہ کاکڑ امیر محمد کاکڑ نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

 

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز تنظیم  وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی کا مسلہ حل ہونے کے بجائے نہ صرف طوالت اختیار کر رہا ہے بلکہ   ہر آنے والے دن کے ساتھ گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔


انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں بلوچ فرزندوں کے جبری اغوا نما گرفتاریوں کا سلسلہ خفیہ حراست میں رکھنے کا جاری ہے۔اب فورسزنے  وحشت کا مظاہرہ تیزکرتے ہوئے  خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر  ماورائے عدالت جبری لاپتہ کرنا بلوچوں کی تشدد شدہ لاشوں ویرانوں میں پھیکنے کی صورت میں کیا گیا ہے ۔درندگی کے ان وحشیانہ حرکتوں  نے لاپتہ بلوچوں کی زندہ سلامت بازیابی کی امیدوں کو وسوسوں خدشات اور بے یقینی میں بدل دیاہے۔  جس سے اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب لواحقین کے نا قابل بیان کرب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔


انھوں نے کہاکہ اس سلسلے میں جبری لاپتہ بلوچوں کے لواحقین سمیت بلوچ سیاسی سماجی حلقوں کی طرف سے پاکستانی مقتددہ قوتوں قانون انصاف کے اداروں بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی دعویدار سیاسی مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو ہر سطع پر آگاہ کرتے ہوئے انصاف مانگا گیا ، مگر ہر طرف سے طفل تسلیوں اور ٹال مٹول کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post