خضدار: یورپی یونین کے تعاون سے چائلڈ لیبر کے خاتمے پر دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیاگیا



پاکستان ورکرز فیڈریشن نے آئی ایل او اور یورپین یونین کے تعاون سے بلوچستان کے ضلع خضدار کے ایک مقامی ہوٹل میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ٹریڈ یونین کے نمائندگان، سماجی کارکناں، سکولوں کے اساتذہ کے علاوہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے دیگر مکاتب کے لوگوں نے شرکت کی۔


سیمینار دوران کہاگیاکہ بلوچستان کا شمار دنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں چائلڈ لیبر میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان میں ہزاروں بچے گھریلو حالات اور معاشی مشکلات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محنت مزدوری کررہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مشقت کرنے والے ان بچوں کو نہایت معمولی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں میں مشقت کرنے والے مجبور بچوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔


انھوں نے کہاکہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین تو موجود ہیں لیکن غیر مؤثر ہے یا پھر ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔


ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے مطابق جو شخص بھی 16سال سے کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھتا یا اس کی اجازت دیتا ہے تو اسے 20ہزار روپے تک جرمانہ یا ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی کم از کم سزا 6 ماہ ہے، جس کی مدت 2 سال تک بڑھائی جا سکتی۔

تاہم پاکستانی آئین کا یہ شک بلوچستان میں ناپید ہے۔ اور لاکھوں بچوں کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post