متحدہ عرب امارات و پاکستان بھائی کو قانون حقوق نہیں دے رہے ہیں ۔ فریدہ بلوچ

انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین بلوچ کی ہمشیرہ فریدہ بلوچ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج عالم اسلام کی مذہبی تہوار سنت ابراہیمی کے دن خوشیاں منائی جارہی ہیں لیکن میرے گھر میں گذشتہ چار سالوں سے خوشیاں ماند پڑھ گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز عرب شیخوں نے اپنے فیملی کے ساتھ عید منائی لیکن انہوں میرے ماں اور ہمیں چار سالوں سے غمزدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راشد حسین بلوچ کے جبری گمشدگی کو چار سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ہم تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ متحدہ عرب امارات سمیت پاکستان بھائی کو قانونی اور انسانی حقوق نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے چار سال سے ہم کراچی اور کوئٹہ پریس کلبوں کے سامنے احتجاج سمیت عدالت سے رجوع کرچکے ہیں لیکن پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی بلکہ لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیشن میں میری والدہ سمیت لاپتہ افراد کے لواحقین کی تذلیل کی جاتی ہے۔ فریدہ بلوچ نے راشد حسین کے گمشدگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راشد حسین بلوچ 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات سے وہاں کے خفیہ اداروں ان کے رشتہ داروں کے سامنے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔ راشد حسین انسانی حقوق کے متحرک کارکن تھے انہیں متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے پاکستان حکومت کی ایماء پر جبری طور لاپتہ کیا اور چھ مہینے تک نامعلوم مقام پر رکھنے کے بعد غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا جہاں وہ تاحال لاپتہ ہے۔ فریدہ بلوچ نے کہا اقوام متحدہ ادارہ برائے مہاجرین سمیت دیگر عالمی اداروں کو راشد حسین کا کیس بھیج چکے ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متحدہ امارات کے نام ایک ہنگامی اپیل بھی جاری کی لیکن اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی راشد حسین کے کیس کے حوالے سے خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے بلکہ ان کی کارکردگی سے لوگ مایوس ہورہے ہیں۔ فریدہ بلوچ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں سیاسی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت دیگر افراد کے جبری گمشدگیوں پر نوٹس لیکر اپنا فریضہ ادا کرے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post