پاکستانی کرنل کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی ۔ بی ایل اے

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے اپنے جاری پریس ریلیز میں کہاہے کہ بی ایل اے کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ ( ایس ٹی او ایس) نے ۱۲ جولائی ۲۰۲۰ کو ایک خفیہ اطلاع پر زیارت کے قریب آپریشن کرتے ہوئے، پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس اعلیٰ افسر، کرنل لئیق بیگ مرزا کو حراست میں لے لیا۔ انھوں نے کہاہے وہ ہمارے اہم ہدف تھے اور گذشتہ کئی دنوں سے ہماری انٹیلی جنس یونٹ ان پر نظر رکھا ہوا تھا ۔ اور مزکورہ دن انکا تعاقب کیا گیا اور آخر کار انہیں ایک ایسے علاقے میں گرفتار کیا گیا، جہاں عوام کے لیے خطرہ کم سے کم تھا۔ انھوں نے کہاکہ اس دن وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے،  کیوں کہ انکی اہل خانہ کسی قسم کی بلوچ مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھی، جسکی وجہ سے انکے ساتھ انتہائی احترام سے پیش آیا اور ان کو کسی بھی قسم کا ضرر نہیں پہنچایا گیا۔ انھوں نے کہاکہ  مزکورہ کرنل کا تعلق پاکستانی فوج کی 12 آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا۔ وہ اس سے قبل پاکستان رینجرز میں کمانڈنگ عہدوں پر بھی فائز رہے تھے۔ اس وقت وہ پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس ایم آئی کے ایک آفیسر کے عہدے پر تعینات تھے۔ اور وہ ڈی ایچ اے کوئٹہ میں بطور ڈھال کام کام میں سرگرم تھے۔ لہذا بلوچستان پر قابض فوج کے ایک افسر ہونے، معصوم بلوچ خواتین و بچوں کی جبری گمشدگیوں، بلوچ نسل کشی اور دیگر جرائم سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں براہ راست ملوث ہونے کی وجہ سے انہیں بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا گیا اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔ جہاں انہوں نے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا، جسکی پاداش میں انہیں بلوچ قومی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی۔ جسکے فوری بعد سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ہماری تنظیم ، پاکستانی فوج کے ان حاضر سروس افسران کی فہرست تشکیل دے چکی ہے، جو براہ راست بلوچ نسل کشی میں ملوث ہیں۔ مذکورہ افسران چاہے جہاں بھی ہوں انھیں بلوچ عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کرکے سزا دی جائے گی ۔ ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ ہم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں قابض فوج اور ان کے معاونین کو اس وقت تک نشانہ بنایا جائے گا، جب تک وہ بلوچ مادر وطن سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہو جاتے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post