کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6394ویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر 13 جنوری 2015 کو نیو کاہان، ہزار گنجی سے مبینہ طور پر جبری لاپتہ کیے جانے والے عبدالرحمن مری کے لواحقین نے کیمپ میں شرکت کی۔
لواحقین نے بتایا کہ عبدالرحمن مری کو لاپتہ ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اب تک نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث پورا خاندان شدید کرب اور اذیت میں زندگی گزار رہا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ عبدالرحمن مری کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے بارے میں خاندان کو آگاہ کیا جائے۔
اس طرح ہمشیرہ صغیر احمد نے بھائی اور چچا زاد بھائی اقرار بارے نصر اللہ بلوچ کے ہمراہ ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہاکہ 11 جون 2025 کو اورماڑہ چیک پوسٹ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ عدلیہ، کمیشن اور حکومتی نمائندوں سے رجوع کرنے کے باوجود ان کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔ میرا مطالبہ ہے کہ صغیر احمد اور اقرار کو فوری بازیاب کیا جائے، اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے عبدالرحمن مری،صغیر احمد اور اقرار سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کرکے تمام لاپتہ افراد کے مسئلے کو آئین و قانون کے مطابق حل کیا جائے۔

