کوئٹہ ( نامہ نگار ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ جھل مگسی گنداواہ سے مسلح افراد نے عطاء اللہ دیناری اور عرفان دیناری نامی دو افراد کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا ۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے گورگینہ سے اغوا کیے گئے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کی رہائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق تمام اہلکار خیریت سے اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 16 اکتوبر کو نامعلوم مسلح افراد نے گورگینہ کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران ایک مسافر وین کو روک کر اس میں سوار قلات ریکروٹ ٹریننگ سینٹر کے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جارہے تھے۔
مغوی اہلکاروں کا تعلق سابق لیویز فورس سے بتایا گیا تھا جنہیں موجودہ حکومت نے پولیس میں ضم کردیا تھا۔ واقعے کے بعد اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے مطالبات سامنے آئے تھے۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ کمیشن نے بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بامعنی سیاسی مذاکرات پر زور دیا ۔
دریں اثناء ضلع تمپ، نظرآباد سے لاپتہ کیے گئے وسیم عبدالنبی دس روز بعد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔ ان کی بحفاظت واپسی پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور دیگر شخصیات کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق وسیم عبدالنبی کو 9 اکتوبر کی صبح اس وقت مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے جب وہ نظرآباد میں اپنی دکان کھول کر بیٹھے تھے۔ اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کا الزام ایک مسلح تنظیم پر عائد کیا تھا۔ ان کے مطابق وسیم عبدالنبی اس سے قبل 2017ء میں بھی لاپتہ ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔
وسیم عبدالنبی کی گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی کے لیے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے آواز اٹھائی گئی اور ان کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں نیشنل پارٹی، آل پارٹیز کیچ، تربت سول سوسائٹی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے ریجنل دفتر تربت، کیچ بار ایسوسی ایشن، انجمن تاجران کیچ اور انجمن تاجران تمپ سمیت مختلف تنظیموں نے اپنا کردار ادا کیا۔
اسی طرح بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جاڈین دشتی ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے ڈپٹی چیئرمین میر باہڈ جمیل دشتی، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، ڈاکٹر غفور، ملا لیاقت ولی، میر اصغر رند، میر رؤف رند، نیاز کیازئی، لالا رشید، جمیل عمر اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی ان کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی۔
اہل خانہ نے پریس کلب تربت، صحافی برادری، سوشل میڈیا صارفین، عزیز و اقارب، دوست احباب، علاقائی معتبرین، اہلیان تمپ، توجیل گروپ نظرآباد، کرکٹ تنظیموں اور آل کیچ مند کرکٹ کلب سمیت تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے وسیم عبدالنبی کی بازیابی کے لیے آواز بلند کی اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔
وسیم عبدالنبی کی دس روز بعد بحفاظت واپسی پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام تعاون کرنے والوں کے لیے تشکر کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
