تربت ( نامہ نگار) تربت بلیدہ کوچگ کے رہائشی نوجوان حامد سید کی والدہ، اہلیہ اور ہمشیرہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ 23 ستمبر 2026 کو بلیدہ کوچگ میں حامد سید اپنے کھجور کے زرعی باغ میں کام کر رہے تھے کہ دو موٹرسائیکل پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد آئے اور انھیں اغوا کرکےاپنے ساتھ لے گئے۔
اہلخانہ نے پریس کانفرنس کے ذریعے نامعلوم مسلح افراد سے اپیل کی کہ حامد سید کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری طور پر رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حامد سید ان کے گھر کا واحد کفیل ہے اور زرعی باغ میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے تھے ان کی عدم موجودگی سے اہلخانہ شدید پریشانی اور مشکلات سے دوچار ہیں۔
اہلخانہ نے متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ حامد سید کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دریں اثناء خاران ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ اغوا ہونے والے دو افراد بازیاب ڈپٹی کمشنر تاحال لاپتہ
خاران گزشتہ دنوں مسلح افراد کے ہاتھوں ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کے ہمراہ اغوا ہونے والے ڈرائیور پیرک خان اور سپاہی یوسف فقیر بازیاب ہو گئے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر خاران اور سبی کا رہائشی ایک حوالدار تاحال لاپتہ ہیں۔
