سوراب سانحہ کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شہر بازار شاہرائیں بند، ہڑتال جاری ، تربت پولیس کی جانب سے دکانوں کے تالے توڑ کر دکانیں کھولنے کی کوشش تاجروں نے نکام بنادیا

 


تربت ( نامہ نگار  ) سوراب، گدر میں گزشتہ روز سول آبادی پر پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری میں عام شہری خواتین بچوں کی ھلاکت کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اپیل پر  بلوچستان بھر میں ہڑتال جاری ۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گدر کے علاقے میں پاکستانی فوج کے فضائی حملے اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی قتل کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے، جبکہ  بدھ کے روز متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے سوراب میں شال کراچی شاہراہ پر  شہدا کی میتیں رکھ کر احتجاج کیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے مطابق سوراب، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں متعدد کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ادھر  تربت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے بعض دکانوں کے تالے توڑنے اور انہیں زبردستی کھولنے کی کوشش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو اسسٹنٹ کمشنر تربت کی موجودگی میں دکانوں کے تالے توڑتے اور دکانیں کھلوانے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انجمن تاجران نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے ہڑتال کی کوئی کال نہیں دی گئی تھی، مگر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پہہ جام اور بازار دکانیں بند کرنے کی اپیل کی تھی ،دکاندار بھی سوراب واقعے کے خلاف رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بند کی تھیں۔ انجمن تاجران نے دکانوں کے تالے توڑے جانے کے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا۔

انجمن تاجران کے مطابق معاملہ ڈپٹی کمشنر کیچ کے نوٹس میں لایا گیا، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کی مداخلت سے معاملہ حل ہو گیا اور کسی قسم کی مزید اشتعال انگیزی یا بد مزگی پیدا نہیں ہوئی۔


Post a Comment

Previous Post Next Post