اسما جتک، نے بلوچ سماج میں ایک نئی "ماروی" کو جنم دیا ہے۔ ظفر معراج

           


  

جن دوستوں کو ماروی کی داستان کا علم نہیں، ان کے لیے مختصراً عرض ہے کہ "ماروی" تھر کے علاقے مَلیر کی رہنے والی ایک باوقار اور باکردار لڑکی تھی، جس کی منگنی اپنے ہی قبیلے کے ایک نوجوان، "کھیت سین"، سے ہوئی تھی۔ اس کے حسن و کردار کی شہرت اس دور کے حکمران عمر سومرو تک پہنچی تو اس نے ماروی کو اغوا کروا کر عمرکوٹ کے محل میں قید کر لیا۔ اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ ماروی اس سے شادی پر آمادہ ہو جائے، مگر نہ ہیروں اور جواہرات کی چمک، نہ اقتدار کی شان و شوکت، اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں اس کے عزم کو متزلزل کر سکیں۔ ماروی کے لیے اپنے گاؤں کی سادہ جھونپڑی، شاہی محل سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔ اس کے نزدیک باپ کی عزت، منگیتر کی محبت اور اپنی غیرت ہر نعمت پر مقدم تھی۔

آخرکار عمر سومرو کو ماروی کے کردار اور استقامت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا اور اس نے اسے باعزت واپس روانہ کر دیا۔ ماروی جب اپنے گھر لوٹی تو اس کے والد، بھائی، منگیتر اور پورے قبیلے نے اسے پہلے سے بھی زیادہ عزت و احترام کے ساتھ قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماروی آج بھی وفا، مزاحمت اور غیرت کی علامت سمجھی جاتی ہے، اور شاہ عبدالطیف بھٹائی نے بھی اپنے لازوال کلام میں اسے ہمیشہ کے لیے امر(سر ماروی )کر دیا۔

اسما جتک کی داستان بھی اسی روایت کا تسلسل  ہے۔ ایک طاقتور شخص نے دولت، اثر و رسوخ اور طاقت کے زور پر اسے اپنی خواہش کے تابع کرنے کی کوشش کی، مگر اسما بھی ماروی کی طرح مزاحمت کی علامت بن کر کھڑی رہی۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمر سومرو نے آخرکار ماروی کےکردار کے سامنے سر جھکا دیا تھا، مگر اسما کے مدمقابل نے ایسی اعلی ظرفی نہیں دکھائی اسی لیے اس کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

میں جو ہمیشہ ماروی کے قبیلے اور اس معاشرے کو مثالی سمجھتا آیا تھا، آج اپنے  معاشرے پر بھی فخر محسوس کرتا ہوں؛ ایک ایسا معاشرہ  جہاں اسما جتک جیسی بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں، جن میں ماروی جیسا حوصلہ اور استقامت موجود ہے۔ یہاں شہید ماسٹر عنایت اللہ جیسے باپ ہیں، جو جھوٹی عزت کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے اپنی بیٹی پر  جان قربان کر دیتے ہیں۔ یہاں ایسے نوجوان بھی ہیں جو اپنی منگیتر کو "شغان" نہیں بلکہ عزت کی علامت سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہوئے اپنی جان  نچھاور کر دیتے ہیں۔ یہاں وہ قبائل بھی ہیں جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی بجائے عزت و تکریم کے بلند مقام پر بٹھاتے ہیں، اور وہ سماجی شعور بھی موجود ہے جو اسما جتک پر کوئی تہمت لگانے کی بجائے اس کے  حق میں آواز بلند کرتا ہے۔۔ 

یہی وجہ ہے کہ آج اسما جتک صرف ایک  نام نہیں رہا بلکہ ایک واضح لکیر بن چکا ہے۔ اس لکیر کے ایک طرف فرسودہ، بوسیدہ اور جبر پر مبنی شاونسٹ سوچ  کھڑی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک روشن خیال، باوقار، انصاف پسند اور باشعور سماج اپنے مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔۔

 کون کس طرف کھڑا ہے۔ اسما اس کا آئینہ ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post