کوئٹہ / کراچی ( نامہ نگاران ) پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی کے ایک فلیٹ سے 5 بلوچ طالب علموں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے انتہائی تشویش ہو رہی ہے کہ جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء؛ اظہر بلوچ ولد حیات، غوث بخش بلوچ ولد حیات، شہزاد بلوچ ولد شاہد، انیس بلوچ ولد عظیم اور وسیم بلوچ ولد محمد امین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز نے کراچی کے علاقے گلشن بل میں ان کے رہائشی فلیٹ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
بساک کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات 2:00 بجے، متذکرہ سیکیورٹی فورسز نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا۔ طلباء پر جسمانی تشدد اور ہراساں کرنے کے بعد پانچ بلوچ طلباء کو سامان سمیت زبردستی غائب کر دیا گیا۔ ان کی غیر قانونی حراست کے بعد، ان کا ٹھکانہ ابھی تک نامعلوم ہے۔ جبکہ اس سے قبل جامعہ کراچی کے ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ کو کیمپس کے احاطے سے جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جبکہ ایک اور واقعہ، زبیر بلوچ ولد نور محمد، ڈگری کالج حب میں بی ایس کیمسٹری سے فارغ التحصیل طالب علم کو فورتھ شیڈول میں اپنے کیس کی ٹریل سے گھر واپس آنے کے بعد حب سے زبردستی لاپتہ کر دیا گیا۔
بیان میں گیا کہ گوادر کا رہائشی اظہر بلوچ جنرل ہسٹری کا طالب علم ہے جبکہ اس کا بھائی غوث بخش بلوچ بی ایس اکنامکس کا طالب علم ہے۔ گوادر کا رہائشی شہزاد بلوچ انوائرمینٹل سائنس کا طالب علم ہے۔ نوشکی میں رہنے والا انیس بلوچ بی ایس فلسفہ کا طالب علم ہے جبکہ قلات کا رہائشی وسیم بلوچ جامعہ کراچی میں بی ایس پولیٹیکل سائنس کا طالب علم ہے۔
مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مطابق یہ تمام افراد جامعہ کراچی کے انرولڈ طلباء ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے آبائی شہر چھوڑے لیکن بدقسمتی سے جبری گمشدگی کا شکار ہو گئے۔ یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور اس کے آس پاس طلباء کو نشانہ بنانا اور اغوا کرنا ایک اور تشویشناک بات ہے۔ یہ غیر منصفانہ حرکتیں نہ صرف بلوچ طلباء کے تعلیمی کیریئر کو متاثر کرتی ہیں بلکہ انہیں شدید نفسیاتی صدمے کا بھی نشانہ بناتی ہیں۔
آخر میں بساک نے کہا کہ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے اور اس گھناؤنے رویے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام بلوچ طلباء کی حفاظت کا یقین دلاتے ہوئے تمام سات بلوچ طلباء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
علاوہ ازیں کوئٹہ کے رہائشی نوجوان صدام حسین ولد بلال احمد کو اتوار کے روز صبح تقریباً 12 بجے کوئٹہ شاپنگ مال کے قریب سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اہل خانہ کے مطابق صدام حسین پیشے کے اعتبار سے ایک دکاندار ہیں اور اسی دوران سادہ لباس میں ملبوس افراد نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ واقعے کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے خلاف اگر کوئی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر انہیں فوری طور پر بازیاب کرکے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
دریں اثناء تربت کے رہائشی محمود حاجی یعقوب گزشتہ روز کنٹانی گوادر سے واپسی کے دوران تربت ایئرپورٹ چوک کے قریب لاپتہ ہو گئے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق ان کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ناپتا شخص کے اہلِ خانہ نے ضلع انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے محمود حاجی یعقوب کو دیکھا ہو یا ان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر اہلِخانہ سے رابطہ کریں تاکہ ان کی جلد از جلد بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔


