مستونگ ( نامہ نگار) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تین الگ الگ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں تربت میں پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنانا، ہرنائی میں پولیس چیک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنا اور مستونگ میں وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر مسلح حملہ شامل ہے۔
مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضیاء اللہ لانگو حملے میں محفوظ رہے، جبکہ قافلے میں شامل تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں شہید فدا چوک کے قریب پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
تربت شہر میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی برکت رند کی رہائش گاہ کے قریب ایف سی گاڑی کے نزدیک بم دھماکہ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک موٹرسائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔
دھماکہ انتہائی شدید تھا، جس کی آواز دور تک سنی گئی جبکہ قریبی عمارتیں لرز اٹھیں۔
دھماکے کے نتیجے میں پانچ شہری زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردیا گیا۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
سیکیورٹی اہلکار دھماکے کے مقام سے شواہد اور دیگر ضروری معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
ادھر ضلع ہرنائی میں گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے 5-مائل پولیس چیک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
تینوں واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز، پولیس اور سرکاری تنصیبات کو مسلح حملوں اور دھماکوں کا سامنا ہے۔ تاہم تربت، ہرنائی اور مستونگ کے تازہ واقعات کے حوالے سے ذمہ داری کسی کی جانب سے فوری طور پر قبول کیے جانے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
