کوئٹہ( نامہ نگار ) کوئٹہ میں 22 جون کو قلات رہائشی ایک خاندان کی خواتین نے پریس کانفرنس کی۔ رخسانہ عزیز نے نامی خاتون نے تفصیل بتائی کہ،
عبدالسلام نامی شخص نے رشتہ مانگا تھا، ہم نے انکار کیا۔ رشتہ نہ دینے پر عبدالسلام نے لڑکی کے والد اور میرے بھائی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس کے بعد 19 مارچ کو نامعلوم افراد نے میری بھتیجی لائبہ ستار اغوا کیا جو تاحال لاپتہ ہے۔
میرے بھائی عبدالستار نیچاری کو تین ماہ قبل بیدردی سے قتل کیا گیا۔ میری بھتیجی لائبہ ستار کو 19 مارچ کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا۔ گھر میں کالعدم تنظیم کے نام پرچی بھیجی کہ آپ کی بچی کالعدم تنظیم کے پاس گئی ہے۔
تحقیقات کے لیے سیکورٹی فورسز سے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ لڑکی کالعدم تنظیم کے پاس نہیں بلکہ عبدالسلام نامی شخص نے اسے اغوا کیا ہے۔ اس قبل عبدالسلام نے رشتہ مانگا تھا، ہم نے انکار کیا۔ رشتہ نہ دینے پر عبدالسلام لڑکی کے والد اور میرے بھائی کو گولی مار کر قتل کیا۔
احتجاج کرنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور ملزم کی گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تین ماہ گزر گئے مگر تاحال ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔ ملزم عبدالسلام پولیس محکمے میں ملازم ہے۔ لاپتہ لڑکی لائبہ ستار تاحال بازیاب نہ ہو سکی۔
مقتول کی والدہ شاہ بی بی نے کہا کہ اگر میرے بیٹے کے قاتل کو گرفتار نہ کیا گیا تو میں خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا دوں گی۔ قلات پولیس دندناتے ملزمان عبدالسلام اور اس کے بھائی طیب کو گرفتار نہیں کر رہی۔ ہمیں بتائیں ہم کس سے انصاف طلب کریں۔
