یہ سزا متحدہ بلوچستان کے مسئلے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ صادق رئیسانی ایڈوکیٹ

 


 کوئٹہ ( پریس ریلیز )

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاجی بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو  سنائی جانے والی عمر قید کی سزا پر سینیئر وکیل آزادی پسند قوم پرست رہنماء محمد صادق رئیسانی ایڈوکیٹ نے جاری بیان میں کہایے کہ یہ سزا متحدہ بلوچستان کے مسئلے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق، انصاف اور قوموں کے آزادی کے تناظر میں نمایاں کر دیا ہے۔ بلوچ معاشرے کا ایک بڑا حلقہ ان فیصلوں کو سیاسی آواز کے دبانے کی کوشش قرار دیتا ہے اور انہیں مسترد کرتا ہے۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوموں کے سیاسی شعور کو صرف طاقت، مقدمات اور سزاؤں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی قوم کے اندر شناخت، حقوق اور آزادی کے مستقبل کے سوالات پیدا ہوں تو ان کا حل طاقت نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور سیاسی بصیرت ہوتی ہے۔
مشہور فلسفی جان لاک (John Locke) نے ریاست کے مقصد کے بارے میں لکھا: "حکومت کی طاقت عوام کی رضامندی سے آتی ہے، اور جب حکومت عوام کے حقوق کے خلاف ہو جائے تو اس کی اخلاقی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔"
اسی طرح ژان ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) نے اپنی کتاب The Social Contract میں لکھا: "حکومت کی اصل بنیاد عوام کی مرضی ہے، نہ کہ محض طاقت۔"
دنیا کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) نے کہا: "کوئی بھی شخص آزادی کی پیدائشی خواہش لے کر پیدا ہوتا ہے، اور اس خواہش کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا۔"
سیاسی فلسفی ہنّا آرنٹ (Hannah Arendt) نے طاقت اور جبر کے فرق کو بیان کرتے ہوئے لکھا: "جہاں طاقت کمزور ہوتی ہے وہاں تشدد بڑھ جاتا ہے۔"
انھوں نے کہاہے کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں کئی تحریکیں ایسی گزری ہیں جنہیں ابتدا میں بغاوت یا جرم قرار دیا گیا، لیکن وقت کے ساتھ وہ سیاسی حقیقتیں بن گئیں۔ جنوبی افریقہ، الجزائر، مشرقی تیمور اور اور اسی طرح متحدہ بلوچستان کا ظہور یقینی ہوتے ہوئے دنیا کے تاریخ میں شامل ہوکر تاریخ رقم کرے گی اور دیگر خطوں کی تاریخ اس بات کی مثال ہے کہ سیاسی سوالات کو صرف طاقت سے دفن نہیں کیا جا سکتا۔
مشہور ماہرِ سیاسیات بینیڈکٹ اینڈرسن (Benedict Anderson) نے قوم کے تصور کو بیان کرتے ہوئے کہا: "قوم ایک خیالی برادری ہے، کیونکہ اس کے لوگ ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہ جانتے ہوئے بھی ایک مشترکہ تعلق محسوس کرتے ہیں۔"
انھوں نے مزید کہاہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بھی صرف ایک عدالتی فیصلے کا مسئلہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت، سیاست انسانی حقوق اور آزادی سےجڑا ہوا سوال ہے۔ ریاستوں کی مضبوطی اس بات سے ظاہر نہیں ہوتی کہ وہ اختلاف کو کتنا دبا سکتی ہیں، بلکہ اس بات سے کہ وہ اختلاف کو انصاف کے ساتھ کیسے سنبھالتی ہیں۔
فلسفی مہاتما گاندھی (Mahatma Gandhi) نے کہا تھا: "آپ کسی قوم پر اس کی مرضی کے خلاف حکومت نہیں کر سکتے، بغیر اس کے کہ آپ اس کی روح کو زخمی کریں۔" اسی طرح بابا خیر بخش مری کا قول ہے کہ آزاد بلوچستان ہی ہماری قومی شناخت اور وجود کی واحد ضمانت ہے ،
آج کے دور میں دنیا میں پائیدار حل وہی سمجھے جاتے ہیں جو عوامی خواہشات، انسانی وقار اور سیاسی انصاف کو اہمیت دیتے ہیں۔ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ خیالات، شناخت اور آزادی کے سوالات جیلوں کی دیواروں سے بڑے ہوتے ہیں۔
صادق ایڈوکیٹ نے آخر میں کہاہے کہ متحدہ بلوچستان کا مستقبل بھی اسی اصول پر منحصر ہے کہ ریاست ایران اور پاکستان طاقت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا بلوچ قوم کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہیں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post