کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ
بلوچ قومی فریضہ ادا کرنے، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے، لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرنے، بلوچ قوم کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے اور قومی شعور بیدار کرنے کے "جرم" میں آج بی وائی سی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کے قتل کا الزام لگا کر یہ مقدمہ بنایا گیا، وہ قتل نہیں ہوا تھا بلکہ روڈ حادثے میں جان کی بازی ہار گیا تھا، جس کی تصدیق اُس وقت اس کے اہلِ خانہ نے خود میڈیا کے سامنے کی تھی۔
انھوں نے کہاہے کہ اگر ریاست اگر یہ سمجھتی ہے کہ سیاسی آوازوں کو قید کر کے بلوچ قوم کے حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ بلوچ قوم باشعور اور باوقار ہے؛ ایسے فیصلے اس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ ماضی میں بھی اسی سوچ کے تحت بے شمار بلوچوں کو شہید کیا گیا، مگر آج تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ قومی شعور پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
ترجمان نے کہاہے کہ آج ذمہ داری بلوچ قوم پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے آواز بلند کرے جنہوں نے ہمیشہ سب کے لیے آواز اٹھائی۔
