سرکار بنام ماہ رنگ کیس میں ماہ رنگ بلوچ کو سزا لکھ کر دی گئی کیونکہ فیصلہ سنانے کیلئے ملزم/ ملزمہ کا جج کے روبرو ہونا لازمی ہوتا ہے لیکن یہاں ماہ رنگ ہدہ جیل میں تھی اور نامعلوم جج صاحب نامعلوم جگہ پر ۔
چنانچہ یہ فیصلہ لکھا گیا سنایا نہیں گیا ۔
یہ ایک گوریلہ فیصلہ ہے۔ یعنی عدالت نے چھپ کر ، چہرہ ڈھانپ کر ( فیس لیس) فیصلہ دیا ۔
عام طور پر عدالتوں میں ایف آئی آرز پڑھی جاتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے نامعلوم ملزمان کہ جن کے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے واردات کرکے بھاگ گئے۔ لیکن یہاں عدالت نا معلوم اور جج نامعلوم اور نقاب پوش ۔
بلوچستان میں ایک گوریلہ جنگ جاری ہے جو اب 25 سال بعد اس طرح سے گوریلہ نہیں رہی جس طرح آغاز میں تھی جبکہ ریاستی ادارے بشمول عدالتیں کیموفلاج ہوتی جارہی ہیں ۔
اسی ریاست نے ماہ رنگ کے والد کامریڈ غفار لانگو کو بغیر کسی ایسی نام نہاد عدالتی کارروائی کے بغیر دو سال تک خفیہ رکھ کر سزائے موت دے کر شہید کردیا گیا اور لاش گڈانی میں پھینک دی ۔ ایسے ہزاروں خفیہ قتل پر سیاسی جدوجہد پروان چڑھی ، جب عدالتی کارروائی کا دبائو بڑھا تو ریاست نے جلد بازی میں انتہائی کیموفلاج عدالتی کارروائی چلا کر جبری قانون کے ایک اہم اصول Justice Hurried is Justice buried کو لاگو کرکے انصاف کو دفن کردیا۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہی اصول آغا عبدالکریم احمدزئی ، نواب بابو نوروز خان زہری اور حمید بلوچ کے بھی ٹرائل میں بھی اپنایا گیا ۔
یہ ریاست بارہا انصاف کو دفن کرتی آئی ہے لیکن مظلوم اپنی جدوجہد کے ذریعے مقتول انصاف کی قبر کشائی کرکے اس کا پوسٹ مارٹم کرکے متقول انصاف کو انصاف دلانے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں ۔ یہ ایک جنگ ہے ، انصاف کی جنگ ۔
ریاست انصاف کے دفنانے پر اس قدر جلد بازی کیوں کرتی ہے اس لئے کہ ریاست کی طرف سے انصاف کا گلا گھونٹا جا چکا ہوتا ہے۔ اس کے منبی بر انصاف لکھنے والے ہاتھ توڑ دیئے گئے ہوتے ہیں جبکہ انصاف کی آنکھیں نوچ لی گئی ہوتی ہیں۔ انصاف کی لاش مسخ ہو چکی ہوتی ہے ۔
بہر صورت سیاسی جدوجہد کے نتائج یہی ہوتے ہیں اور بتدریج یہ ظاہر بھی ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
ریاست جس قدر انصاف کو قتل کرکے دفن کرے ، کوئی کریم ، کوئی نوروز ، کوئی حمید اور کوئی ماہ رنگ آکر اس کی قبر کشائی کا کام ضرور کرتے آئے ہیں اور آج ماہ رنگ کے فیصلے سے آغا کریم سے لیکر ماہ رنگ تک انصاف کو کیموفلاج ہو کر قتل کرنے کی کوششیں بے نقاب ضرور ہوئی ہیں۔ ریاست ہزار چہرے اپنائے ، فیس لیس اور جسٹس لیس ہو کر قاتل بنے ، مقتول کی قبر کشائی ضرور ہوگی اور یہ کیس اب اپنے الٹ میں بدل جائیگا
ماہ رنگ بنام ریاست
یہاں جناح کو انصاف نہ ملا جس پر فاطمہ جناح نے ایک پمفلٹ چھاپا جس کا عنوان بڑا دلچسپ تھا
جناح بنام ریاست
