کوئٹہ ( ویب ڈیسک ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر قیادت کی سزا پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "خفیہ جیل ٹرائلز اور طاقت کا استعمال آئین کی روح کے منافی ہے، فیصلہ فوری کالعدم کیا جائے”۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اس عدالتی فیصلے اور مقدمے کے طریقہ کار پر سنگین قانونی و آئینی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق، اس مقدمے کے دوران بنیادی انصاف کے تقاضوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو شفاف ٹرائل کا بنیادی حق فراہم نہیں کیا گیا۔
پارٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ "انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر دی جانے والی ایسی سزائیں نہ صرف ملک کے قانونی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں، بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا اور منصفانہ ٹرائل کے بغیر سزا سنانا آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے۔”
پی ٹی آئی نے ریاستی مقتدرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے یکطرفہ اور جابرانہ اقدامات کے ذریعے بلوچستان کے عوام کی آواز کو ہرگز دبایا نہیں جا سکتا۔ عوامی مسائل اور ان کے جائز مطالبات کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انہیں سنجیدگی سے سننا اور ان کا حل نکالنا ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت اور عدلیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو فوری طور پر قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے اور اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ معاشرے میں انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔
اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ بڑے سیاسی اتحاد ‘تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان’ نے بلوچ رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو آن لائن جیل ٹرائل کے ذریعے عمر قید کی سزا سنائے جانے کے عمل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپوزیشن الائنس نے اس فیصلے کو شہری آزادیوں پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ نام نہاد عدالتی فیصلہ انصاف کا کھلا قتل اور آئینِ پاکستان کی روح سے صریح انحراف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے اندر بند کمروں اور جیلوں میں چلائے جانے والے خفیہ اور محدود رسائی والے ٹرائلز انصاف کی فراہمی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ریاستی جبر اور انتقام کو قانونی لبادہ پہنانے کی ایک بدترین اور افسوسناک مثال بن چکے ہیں۔
تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت ملک کے اندر اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور پرامن سیاسی مزاحمت کو جرم کی شکل دے دی گئی ہے۔
یہی جابرانہ طرزِ عمل گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت، کارکنان، منتخب عوامی نمائندوں، خواتین، وکلاء اور صحافیوں کے خلاف بھی مسلسل اختیار کیا جا رہا ہے۔ ملک میں جھوٹے مقدمات، غیر قانونی گرفتاریاں، ماورائے عدالت اغوا، غیر شفاف ٹرائلز اور بنیادی آئینی حقوق کی مسلسل پامالی اب ایک معمول بن چکی ہے، اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ ہونے والا واقعہ اسی خطرناک سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اپوزیشن الائنس نے مقتدر حلقوں سے سوال کیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز کو طاقت سے کچلا جائے گا، سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کو ماورائے عدالت اغوا کیا جائے گا، اور قائدِ حزبِ اختلاف کے خلاف صرف ایک تقریر پر چمن میں مقدمات قائم کیے جائیں گے، تو آخر اس ملک کو کس اندھیرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا آئین اب صرف کمزوروں کو دبانے کے لیے رہ گیا ہے جبکہ طاقتور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں؟
تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریاست نے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا یہ راستہ بند نہ کیا تو پورا ملک بدترین سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی بحران اور عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی دلدل میں دھنس جائے گا، کیونکہ ملک طاقت سے نہیں بلکہ عوامی حاکمیت سے بچتے ہیں۔
