تربت ( نامہ نگار ) تربت گزشتہ روز تربت سے پسنی جانے والی سڑک بانو چڑھائی کی قریب سے ملنے والی مسلخ شدہ نعش کی شناخت رحمدل کے نام سے کیاگیاہے ،انھیں جنوری 2026 کو کیچ کے علاقے ہوشاپ سے ریاستی سیکورٹی فورسز نے جبرلاپتہ کردیا تھا، سیاسی سماجی انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کے اہلخانہ بار بار ان کی بازیابی کی اپیل کرتے رہے کہ اسے بازیاب کرکے مقدمہ چلایا جائے مگر اسکی مسخ شده لاش پھینکی گئی ۔ریاست ریاستی اداروں کی جانب سے یہ دہشت گردی ناقابل قبول ہے ۔
انھوں نے کہاہے کہ نام نہاد سیاستدان فوج خفیہ ایجنیسوں کے رحم وکرم پر ہیں ،جو طوطے کی طرح رٹا جاتا ہے وہ وہی دھراتے ہیں ،اگر کہاجائے کہ کوئی لاپتہ نہیں ہے تو وہ وہی دھراتے ہیں ،حالاں کہ حقیقت میں دیکھا جائے جن لوگوں کو فورسز خفیہ ادارے اٹھاتے ہیں وہ خفیہ نہیں سرعام لوگوں کے سامنے اٹھایا جاتا ہے لیکن خفیہ اداروں فورسز کی دباو گمشدگی کی ڈر سے کوئی سامنے نہیں آتا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ عدالتیں بھی خفیہ ایجنیسوں فوج کی کنٹرول میں ہیں کوئی بھی آزاد نہیں مجسٹریٹ سے لیکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی کرسی پر بت ہی بٹھائے جاتے ہیں ۔
