کوئٹہ ( پریس ریلیز)بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے عید کے پُرمسرت موقع پر ضلع گوادر کی ساحلی تحصیل ‘پسنی’ کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور متعدد نوجوانوں کی جبری گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بیان کے مطابق، جہاں ایک طرف دنیا بھر میں لوگ عید کی خوشیاں منانے کی تیاریاں کر رہے تھے، وہیں پسنی میں متعدد بلوچ خاندان عید کی رات خوف، بے یقینی اور گہرے صدمے کی کیفیت میں گزارنے پر مجبور تھے۔ فورسز نے پسنی کے علاقوں ‘خداداد مولا’، ‘وارڈ نمبر 7’، ریکپشت کے علاقے ‘وادسر’ اور ‘مین بازار’ میں وسیع کارروائیوں کا آغاز کیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی، قیمتی سامان ضبط کیا گیا اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ علاقے میں مواصلاتی پابندیوں اور سخت خوف کے ماحول کے باعث اب تک صرف چند کیسز کی تیکنیکی اور زمینی تصدیق ہو سکی ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سرتاج ولد صالح محمد (منشی) — (تاحال لاپتہ)
شیراز شریف (طالب علم) (تاحال لاپتہ)
زہری خان، ولد الہیٰ بخش (پولیس کانسٹیبل) — (انہیں حراست میں لینے کے بعد بعد ازاں رہا کر دیا گیا)
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، لیکن باقی لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہیں۔
کمیٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور اجتماعی سزا جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے ان کا عزم کمزور نہیں ہوا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوامِ متحدہ (UN)، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اور آزاد مبصرین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پسنی اور بلوچستان کی موجودہ سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے متعلقہ حکام سے شفافیت کا مطالبہ کریں، اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ تنظیم کے مطابق، اس انسانی بحران پر خاموشی ناانصافی کو طول دینے کے مترادف ہے۔