ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ کا پاکستان سے جبری گمشدگیوں پر وضاحت کا مطالبہ

 

جنیوا ( ویب ڈیسک ) ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ کے گروپ نے امریکہ میں مقیم پاکستان کے سفیر کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے پاکستان میں جاری جبری گمشدگیوں، جوابدہی کے فقدان اور متاثرہ خاندانوں کی حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستانی ایمبیسی کو بھیجے گئے اس خط میں تنظیم نے لکھا کہ وہ پندرہ برس سے انسانی حقوق کی پاکستانی تنظیموں اور جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی میں آواز اٹھا رہی ہے، مگر اس طویل عرصے میں پاکستان کی جانب سے صرف دو مختصر جوابات موصول ہوئے، جن میں کسی پیش رفت یا اصلاحات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے جس کے نتیجے میں متاثرہ خاندان خوف، بے یقینی اور صدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔  تنظیم نے سوال اٹھایا کہ پاکستانی سفارت خانہ ان کی مسلسل انسانی حقوق کی اپیلوں کا جواب کیوں نہیں دیتا۔ گروپ 40 کے اراکین نے واضح کیا کہ امن و انصاف کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کی حیثیت سے ان کا مقصد صرف بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہے، اور ان کی سرگرمیوں کا مقصد کسی نقصان یا سیاسی مداخلت کے بجائے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کا حصول ہے۔ ایمنسٹی گروپ نے پاکستانی سفیر برائے امریکہ سے باضابطہ جواب طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے، اس کے ذمہ دار عناصر کے احتساب اور متاثرین و لواحقین کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کرچکی ہیں، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکن مسلسل پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں پر سیاسی کارکنوں کو حراست میں لینے اور اسے اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ کی جانب سے اس خط کی ایک کاپی پاکستان میں جبری گمشدگیوں سمیت دیگر انسانی حقوق کے معاملات پر کام کرنے والی تنظیم ڈیفینس آف ہیومین رائٹس آف پاکستان کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔ ڈیفینس آف ہیومین رائٹس آف پاکستان نے ایمنسٹی امریکہ گروپ 40 کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ان کی حمایت متاثرہ خاندانوں کے حوصلے کو تقویت دیتی ہے اور عالمی سطح پر انصاف کے مطالبے کو مضبوط بناتی ہے۔ انہوں اس حوالے سے کہا کہ حال ہی میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے جبری گمشدگیوں کو “فراڈ” قرار دینا نہ صرف حقائق سے انکار ہے بلکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کی تضحیک بھی ہے، یہ طرزِ عمل ریاستی عدم سنجیدگی اور انسانی حقوق کے بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے، اور حکومت بامعنی اقدامات کے ذریعے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام یقینی بنائے۔  انکے مطابق ریاستی خاموشی اور انکار نہ صرف درد ختم نہیں کرتے بلکہ المیے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ بی ایل اے حملوں کے بعد وزیرِ دفاع نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جبری گمشدگیاں “فراڈ” اور “سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ” ہیں اور انہوں نے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں سے انکار کیا تھا۔ جبری گمشدگیوں پر ایمنسٹی سمیت متعدد انسانی حقوق کے ادارے اور یورپی یونین پاکستانی سیکورٹی اداروں پر سیاسی کارکنان کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے اور اسے اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے متعدد رپورٹس جاری کئے ہیں اور پاکستان سے اس عمل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بیس ہزار سے زائد خاندان اس عمل سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ درجنوں سیاسی کارکنان تاحال لاپتہ ہیں۔ , ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ کا پاکستان سے جبری گمشدگیوں پر وضاحت کا مطالبہ ,

Post a Comment

Previous Post Next Post